امریکی ریاست جنوبی کیرولائنا میں ایک بڑا سیاسی الٹ پھیر سامنے آیا ہے جہاں تقریباً 3 دہائیوں پر محیط روایتی سیاسی تسلسل کو توڑتے ہوئے ایک ڈیموکریٹک امیدوار نے سینیٹ کی نشست جیت لی ہے۔ ایسوسی پریس نیوز ایجنسی کے مطابق، جنوبی کیرولائنا میں 1998 کے بعد پہلی بار کسی ڈیموکریٹ نے سینیٹ کی یہ سیٹ جیتی ہے۔ الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق اس تاریخی انتخابی معرکے میں اینی اینڈریوز نے ریپبلکن امیدوار ڈارلائن گراہم کو شکست دی، حالانکہ اس ریاست کو روایتی طور پر ریپبلکنز کا مضبوط گڑھ سمجھا جاتا رہا ہے۔

الجزیرہ کے مطابق، نتائج سامنے آنے کے بعد منگل کی شب اپنے حتامی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے اینی اینڈریوز کا کہنا تھا کہ میرے خیال میں ہم نے ابھی تاریخ رقم کی ہے۔ فیڈرل الیکشن کمیشن کے ریکارڈ کے حوالے سے الجزیرہ نے بتایا کہ اینی اینڈریوز نے اپنے ریپبلکن حریف کے مقابلے میں 22 ملین ڈالر سے زائد کی رقم اکٹھی کی، جس کے لیے انہوں نے بنیادی طور پر گراس روٹس سطح پر عطیات پر انحصار کیا اور کارپوریٹ پولیٹیکل ایکشن کمیٹیوں (PACs) سے فنڈز نہ لینے کا عزم ظاہر کیا۔ ان کے انتخابی منشور کا محور محنت کش خاندانوں کے لیے اخراجات میں کمی، سستی صحت کی سہولیات کی فراہمی، تولیدی حقوق کا تحفظ اور نہ ختم ہونے والی جنگوں کی مخالفت کرنا تھا۔

پس منظر

الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق، جولائی میں ریپبلکن سینیٹر لنڈسے گراہم کے ناگہانی انتقال کے بعد یہ نشست خالی ہوئی تھی۔ ان کے انتقال کے بعد ان کی چھوٹی بہن ڈارلائن گراہم کو ان کی مدتِ کار کا بقیہ حصہ پورا کرنے کے لیے مقرر کیا گیا تھا، اور بعد میں انہوں نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی توثیق کے ساتھ ایک خصوصی پرائمری رن آف الیکشن جیتا تھا۔

صدارتی پشت پناہی کے باوجود، الجزیرہ نے بتایا کہ ڈارلائن گراہم قدامت پسند ووٹرز کو اپنے پیچھے متحد کرنے میں مشکلات کا شکار رہیں۔ پرائمری مباحثے کے دوران انہوں نے عوامی سطح پر یہ بیان دیا تھا کہ وہ قومی سلامتی کے معاملے پر زیادہ باخبر نہیں ہیں اور قومی سلامتی ان کا موضوع نہیں۔ مہم کے آخری مہینے میں صدر ٹرمپ نے ڈارلائن گراہم کے ساتھ متعدد بار مشترکہ جلسوں میں شرکت کی، جو کہ ایک روایتی طور پر قدامت پسند ریاست میں صدارتی وقت کی ایک غیر معمولی سرمایہ کاری تھی۔

ان تمام کوششوں کے باوجود، ووٹرز نے بالآخر اینی اینڈریوز کا ساتھ دیا۔ اپنی فتح کی تقریر میں اینی اینڈریوز نے اس بات پر زور دیا کہ سینیٹ کی یہ نشست کسی ایک خاندان، جماعت یا واشنگٹن ڈی سی کے کسی ادارے کی بجائے عوام کی ملکیت ہے، اور انہوں نے یہ واضح کیا کہ وہ واشنگٹن میں کسی کی بھی مقروض نہیں ہیں۔

اہمیت کیوں ہے؟

بین الاقوامی مبصرین اور عالمی جمہوری عمل کا جائزہ لینے والے قارئین کے نزدیک، طویل عرصے سے چلے آنے والے سیاسی گڑھ میں ہونے والے ایسے انتخابی اپ سیٹس ووٹر کے مزاج اور عوامی سطح پر متحرک ہونے کے بدلتے ہوئے رجحانات کو واضح کرتے ہیں۔ جیسا کہ علاقائی ووٹنگ کے مشیروں نے رپورٹ کیا ہے، اس نوعیت کے نتائج علاقائی ووٹرز کے اندر وسیع تر سیاسی تبدیلیوں کا اشارہ دے سکتے ہیں۔