پارک ہیڈ کے میدان میں جب کھیل کا ایک گھنٹہ گزر چکا تھا تو شائقین کی امیدیں دم توڑ رہی تھیں۔ سیلٹک کو بیشکتاس کے خلاف 0-1 کی ہزیمت کا سامنا تھا اور اس سیزن کی یوروپا لیگ میں مسلسل چوتھی شکست کا سایہ منڈلا رہا تھا۔ بی بی سی اسپورٹس کے مطابق، اس نازک موڑ پر منیجر مارٹن اونیل نے اپنی حکمتِ عملی تبدیل کرنے کا فیصلہ کیا اور سیباسٹیئن ٹونیکٹی اور جیمز فوریسٹ کی جگہ کالم آسمینڈ اور کومیلو ڈیورن کو میدان میں اتارا۔

مارٹن اونیل کا یہ فیصلہ گیم چینجر ثابت ہوا۔ کالم آسمینڈ نے میدان میں قدم رکھنے کے محض 43 سیکنڈ بعد الیگزینڈر نوبل کو چکمہ دے کر گیند کو جال کی راہ دکھا دی اور مقابلہ برابر کر دیا۔ اس کے بعد کومیلو ڈیورن نے اپنی مہارت کا جادو جگایا۔ انہوں نے دو گول داغے، جن میں وہ فیصلہ کن گول بھی شامل تھا جس نے بیشکتاس کے اورکون کوکچو کی جانب سے مقابلہ برابر کیے جانے کے بعد سیلٹک کی 2-1 سے فتح یقینی بنائی۔ سیلٹک کے سابق مڈ فیلڈر اسٹیلین پیٹروف نے ٹی این ٹی اسپورٹس سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ان تبدیلیوں نے میچ کا پورا رخ موڑ دیا اور ٹیم کے دیگر کھلاڑیوں کے لیے جگہ پیدا کی۔

پس منظر اور منیجر کا دفاع

اس فتح سے قبل سیلٹک کی ٹیم شدید دباؤ میں تھی کیونکہ وہ ٹورنامنٹ میں لگاتار تین میچ ہار چکی تھی۔ بی بی سی اسپورٹس کے مطابق، مارٹن اونیل نے میچ کے بعد کھلاڑیوں کی تبدیلی کے فیصلے کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ ٹیم نے 25 دنوں میں 9 میچ کھیلے ہیں، اس لیے کھلاڑیوں کو تازہ دم رکھنے کے لیے ردوبدل ناگزیر تھا۔ کالم آسمینڈ اور کومیلو ڈیورن کی کارکردگی نے ایک پرانا ریکارڈ بھی تازہ کر دیا۔ بی بی سی اسپورٹس کے مطابق، ستمبر 1977 میں جوہانس ایڈوالڈسن کے بعد یہ پہلا موقع ہے کہ سیلٹک کے کسی متبادل کھلاڑی نے کوالیفائرز کے علاوہ کسی بڑے یورپی مقابلے میں دو گول اسکور کیے ہوں۔

فٹ بال کی دنیا میں اس جیت کی اہمیت

پاکستان سمیت دنیا بھر میں یورپی فٹ بال کے مداحوں کے لیے یہ میچ کسی سبق سے کم نہیں تھا۔ اس مقابلے نے ثابت کیا کہ ایک بہترین منیجر کی بروقت حکمتِ عملی اور بینچ پر موجود کھلاڑیوں کی صلاحیت کس طرح کسی بھی بڑے ٹورنامنٹ کا پانسہ پلٹ سکتی ہے۔ سیلٹک کی یہ جیت نہ صرف ان کے پوائنٹس ٹیبل میں بہتری لائے گی بلکہ کھلاڑیوں کے حوصلے بلند کرنے میں بھی اہم کردار ادا کرے گی۔