فٹ بال کی دنیا کا سب سے درخشاں ستارہ اب بین الاقوامی میدان سے رخصت ہو چکا ہے۔ پرتگال کی قومی شناخت کی علامت بننے والے کرسٹیانو رونالڈو نے بین الاقوامی ذمہ داریوں سے باضابطہ ریٹائرمنٹ کا اعلان کر دیا ہے، اور وہ اپنے پیچھے 146 گولز اور 234 میچوں کا شاندار ریکارڈ چھوڑ کر جا رہے ہیں۔
بی بی سی اسپورٹس کی ایک رپورٹ کے مطابق، رونالڈو کی یہ رخصتی ایک ایسے بیس سالہ سفر کا اختتام ہے جس نے پیشہ ورانہ طوالت کی تمام حدوں کو نئے معنی دیے۔ 2006ء میں اپنے ورلڈ کپ کے ڈیبیو کے بعد سے، اس لیجنڈری فارورڈ نے اس ٹورنامنٹ کے چھ مختلف ایڈیشنز میں حصہ لیا اور 11 مرتبہ گیند کو جال تک پہنچایا۔ چھ الگ الگ ورلڈ کپ سائیکلز میں گول کرنے کا یہ کارنامہ اس استقامت اور مسابقتی جذبے کی عکاسی کرتا ہے جو دو دہائیوں تک برقرار رہا۔
بی بی سی نے پرانی ویڈیوز کا حوالہ بھی دیا جن میں رونالڈو نے اپنے کھیل کے دنوں کے ناگزیر اختتام کا ذکر کیا تھا۔ انہوں نے پہلے کہا تھا: "I'll go when the time is right"، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ان کی ریٹائرمنٹ کھیل سے کنارہ کشی کے حوالے سے ان کا اپنا ذاتی فیصلہ ہے۔
جب ان کی رخصتی کی خبر سامنے آئی تو پرتگال کے کوچ جیسس نے میڈیا سے گفتگو کی تاکہ صورتحال کو واضح کیا جا سکے۔ بی بی سی اسپورٹس کے مطابق، جیسس نے ٹیم کے اندر کسی بھی قسم کے تنازع کی تردید کرتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ ان کے اور رونالڈو کے درمیان "no rift" موجود ہے۔ کوچ کے ان بیانات کا مقصد اس بات کو یقینی بنانا تھا کہ تمام توجہ کھلاڑی کی شاندار کامیابیوں پر مرکوز رہے نہ کہ اندرونی صورتحال سے متعلق قیاس آرائیوں پر۔
پس منظر
رونالڈو کا بین الاقوامی سفر ایک ابھرتے ہوئے ٹیلنٹ کے طور پر شروع ہوا اور پرتگالی قومی ٹیم کی تاریخ کے سب سے زیادہ میچ کھیلنے والے کھلاڑی کے طور پر اختتام پذیر ہوا۔ ان کا پہلا ورلڈ کپ گول 2006ء میں ریکارڈ کیا گیا، اور اگلے 18 سالوں کے دوران وہ اپنے ملک کی اٹیکنگ لائن کا مرکز بن گئے۔ ان کے 234 میچز اور 146 گولز بین الاقوامی فٹ بال میں کسی بھی مرد کھلاڑی کی طرف سے حاصل کردہ سب سے زیادہ اعداد و شمار ہیں، ایک ایسا ورثہ جسے بی بی سی اسپورٹس چھ بڑے عالمی ٹورنامنٹس پر محیط قرار دیتا ہے۔
اس کی اہمیت کیوں ہے
پاکستان میں فٹ بال کے شائقین کے لیے، کرسٹیانو رونالڈو طویل عرصے سے عزم، فٹنس اور پیشہ ورانہ نظم و ضبط کی علامت بنے رہے ہیں۔ ایک ایسے ملک میں جہاں فٹ بال کی مقبولیت تیزی سے بڑھ رہی ہے، ان کا کیریئر اس بات کی بہترین مثال ہے کہ ایک کھلاڑی کس طرح بیس سال تک اعلیٰ کارکردگی کو برقرار رکھ سکتا ہے۔ ان کی ریٹائرمنٹ عالمی کھیل کے ایک ایسے مخصوص دور کا اختتام ہے جو پاکستانی شائقین کے دلوں کے بہت قریب رہا، جن میں سے بہت سوں نے 2006ء کے ابتدائی دنوں سے لے کر ان کے آخری ریکارڈ ساز میچوں تک ان کے سفر کی پیروی کی۔

