جب ویلز کی ٹیم جاپان کے خلاف نیشنز چیمپئن شپ کا آغاز کرے گی، تو میدان کے وسط میں ایک نئی اور دیو ہیکل قوت نظر آئے گی۔ بی بی سی اسپورٹس کے مطابق، ہیڈ کوچ اسٹیو ٹینڈی نے اس اہم مقابلے کے لیے میکس لیولن اور ایڈی جیمز کی جوڑی کو منتخب کر کے 'پاور گیم' کھیلنے کا فیصلہ کیا ہے۔
بی بی سی اسپورٹس کی رپورٹ کے مطابق، میکس لیولن کا قد 6 فٹ 6 انچ اور وزن تقریباً 107 کلوگرام ہے، جبکہ ایڈی جیمز 6 فٹ 4 انچ قد اور 103 کلوگرام وزن کے حامل ہیں۔ ویلز کی رگبی تاریخ میں یہ اب تک کی سب سے وزنی اور قد آور مڈ فیلڈ جوڑیوں میں سے ایک تصور کی جا رہی ہے۔
اس انتخاب کے ساتھ ہی اسٹیو ٹینڈی نے اپنی پرانی پالیسی سے انحراف کیا ہے۔ ماضی میں وہ ان سائیڈ سینٹر کی پوزیشن پر گیند کے ساتھ مہارت دکھانے والے کھلاڑیوں کو ترجیح دیتے تھے، لیکن اس بار انہوں نے میکس لیولن کو 12 نمبر کی جرسی سونپ کر طاقت پر بھروسہ کیا ہے۔ دیگر تبدیلیوں میں سیم کوسٹیلو کو ڈین ایڈورڈز پر ترجیح دی گئی ہے، جبکہ ونگز پر جوش ایڈمز اور لوئس ریس زیمٹ کے ساتھ فل بیک بلیئر مرے ٹیم کا حصہ ہوں گے۔ فارورڈ پیک میں کپتان ڈیوی لیک کے ساتھ نکی سمتھ اور آرچی گرفن اسٹارٹ کریں گے، جبکہ گھٹنے کی تکلیف سے نجات پا کر ڈیفڈ جنکنز کی واپسی ہوئی ہے جو بین کارٹر کے ساتھ جوڑی بنائیں گے۔
بی بی سی اسپورٹس کے مطابق، جولائی میں جنوبی افریقہ کے ہاتھوں 43-0 کی عبرتناک شکست کے بعد ٹیم میں 7 بڑی تبدیلیاں کی گئی ہیں۔ ٹیم کے 15 میں سے 9 کھلاڑی اور مجموعی طور پر 23 رکنی اسکواڈ کے 12 کھلاڑی انگلینڈ میں کلب رگبی کھیلتے ہیں۔
پسِ منظر
رپورٹس کے مطابق، اسٹیو ٹینڈی کی نگرانی میں کھیلے گئے 13 بین الاقوامی میچوں میں یہ مڈ فیلڈ کی چھٹی مختلف شراکت داری ہے۔ اس سے قبل کے 12 میچوں میں جو ہاکنز یا بین تھامس 12 نمبر کی جرسی پہنتے رہے ہیں۔ تاہم بین تھامس فی الحال انجری کا شکار ہیں جبکہ ہاکنز کو خزاں کے اسکواڈ کا حصہ نہیں بنایا گیا۔
میکس لیولن نے اپنے کیریئر کا آغاز کارڈف سے کیا تھا جہاں وہ ان سائیڈ سینٹر کے طور پر کھیلتے تھے، مگر گلوسٹر منتقلی کے بعد وہ آؤٹ سائیڈ سینٹر کے طور پر زیادہ نظر آئے۔ بی بی سی اسپورٹس ویلز سے گفتگو کرتے ہوئے لیولن نے واضح کیا تھا کہ ان سائیڈ سینٹر ہی ان کی پسندیدہ پوزیشن ہے، حالانکہ اس سیزن میں انہوں نے اپنے کلب کے لیے صرف ایک بار اس پوزیشن پر کھیلا ہے۔
یہ تبدیلی کیوں اہم ہے؟
بین الاقوامی رگبی کے مبصرین کے لیے ٹیم میں یہ تبدیلیاں اور نئی حکمتِ عملی انتہائی اہمیت کی حامل ہے۔ اسٹیو ٹینڈی کے مطابق، بین الاقوامی مقابلوں کی سختیوں کو مدنظر رکھتے ہوئے باصلاحیت کھلاڑیوں کے درمیان مقابلے کی فضا برقرار رکھنا اور پوزیشنز کے لیے بہترین انتخاب کرنا کوچنگ اسٹاف کی اولین ترجیح ہے۔

