موٹر ریسنگ کی دنیا کا ایک سنہرا باب بند ہو گیا ہے۔ فارمولا ون کی تاریخ کے مایہ ناز آسٹریلوی ڈرائیور ایلن جونز 80 برس کی عمر میں انتقال کر گئے ہیں۔ ایلن جونز وہ بہادر ریسر تھے جنہوں نے ولیمز ٹیم کو اس کی تاریخ کی پہلی عالمی چیمپئن شپ جتوائی تھی۔ ان کا انتقال 5 نومبر کو مختصر علالت کے بعد ہوا، جس کے ساتھ ہی آسٹریلیا کے اس آخری چیمپئن کا سفر تمام ہوا جس نے عالمی موٹر ریسنگ کے سب سے بڑے اسٹیج پر اپنے ملک کا جھنڈا گاڑا تھا۔

برطانوی نشریاتی ادارے (بی بی سی) کے مطابق، ایلن جونز نے پیر کے روز ہی اپنی 80 ویں سالگرہ منائی تھی، جس کے چند دن بعد وہ داعی اجل کو لبیک کہہ گئے۔ ان کی اہلیہ امانڈا بٹلر ڈیوس نے موٹر اسپورٹ آسٹریلیا کے ذریعے جاری کردہ ایک بیان میں اس افسوسناک خبر کی تصدیق کی۔ انہوں نے اپنے شوہر کو ایک ایسی شخصیت قرار دیا جنہیں ان کے اہل خانہ اور دنیا بھر میں موجود مداح ہمیشہ محبت سے یاد رکھیں گے۔

ایلن جونز کا کیریئر 1975 سے 1986 تک پھیلا ہوا تھا۔ یہ ان کی انتھک محنت اور مہارت ہی تھی جس نے ولیمز ٹیم کو محض ایک عام ٹیم سے نکال کر فارمولا ون کی ایک بڑی طاقت بنا دیا تھا۔ وہ ولیمز کے لیے ٹائٹل جیتنے والے پہلے ڈرائیور تھے، جس کے بعد اس ٹیم سے مزید 7 عالمی چیمپئنز نے جنم لیا۔ بی بی سی اسپورٹ کے مطابق ایلن جونز نے اپنے کیریئر میں مجموعی طور پر 116 ریسوں میں حصہ لیا اور 12 گرینڈ پری مقابلوں میں فتح حاصل کی۔

شاندار کیریئر اور فتوحات کا سفر

ایلن جونز کی عالمی چیمپئن بننے کی کہانی 1975 میں ہیسکیتھ ٹیم کے ساتھ اسپینش گرینڈ پری سے شروع ہوئی۔ شیڈو ٹیم کے ساتھ کچھ وقت گزارنے کے بعد، جہاں انہوں نے 1977 میں اپنی پہلی بڑی جیت حاصل کی، وہ 1978 میں ولیمز کا حصہ بنے۔

ان کی کامیابیوں کا گراف تیزی سے اوپر گیا۔ 1979 میں تیسری پوزیشن حاصل کرنے کے بعد 1980 کا سال مکمل طور پر ایلن جونز کے نام رہا۔ بی بی سی اسپورٹ کی رپورٹ کے مطابق اس سال انہوں نے 5 ریسیں جیتیں اور حیران کن طور پر وہ جس ریس میں بھی فنش لائن تک پہنچے، اس میں ٹاپ 3 پوزیشنز (پوڈیم) میں شامل رہے۔ اسی شاندار کارکردگی کی بدولت انہوں نے نیلسن پکیٹ کو پیچھے چھوڑتے ہوئے ورلڈ ٹائٹل اپنے نام کیا۔

ایلن جونز فارمولا ون چیمپئن شپ جیتنے والے دوسرے آسٹریلوی ڈرائیور تھے۔ ان سے پہلے یہ اعزاز جیک برابہم نے 1959، 1960 اور 1966 میں حاصل کیا تھا۔ عالمی چیمپئن شپ کے علاوہ جونز کے پاس یہ اعزاز بھی ہے کہ وہ آخری آسٹریلوی ڈرائیور تھے جنہوں نے 1980 میں میلبورن کے کالڈر پارک ریس وے پر اپنی ہوم گراؤنڈ پر فتح حاصل کی تھی۔

ایک عہد کا خاتمہ

کھیلوں کے تجزیہ نگاروں کے مطابق ایلن جونز 1970 کی دہائی کی خطرناک ریسنگ اور جدید دور کی پیشہ ورانہ موٹر اسپورٹس کے درمیان ایک مضبوط کڑی تھے۔ ان کی کامیابیوں نے ثابت کیا کہ روایتی یورپی ممالک سے باہر کے ڈرائیور بھی اپنی ہمت اور تکنیکی مہارت کے بل بوتے پر اس کھیل پر راج کر سکتے ہیں۔

فرینک ولیمز اور پیٹرک ہیڈ کے ساتھ ان کی شراکت داری کو تاریخ دان جدید ولیمز ٹیم کی بنیاد قرار دیتے ہیں۔ فارمولا ون کے پرانے مداحوں کے لیے ایلن جونز اس دور کی علامت ہیں جہاں کامیابی کے لیے صرف گاڑی کا تیز ہونا کافی نہیں تھا بلکہ ڈرائیور کا مضبوط اعصاب کا مالک ہونا بھی ضروری تھا۔ ریٹائرمنٹ کے بعد انہوں نے اپنے ملک میں بطور کمنٹیٹر اور تجزیہ نگار بھی نام کمایا اور نئی نسل کی رہنمائی کی۔