شمالی علاقوں میں تازہ ہلچل پر تشویش
حکورن آف افریقہ کا خطہ ایک بار پھر بے یقینی کی زد میں ہے، جہاں سرحد کے قریب مقیم لوگوں نے نازک صورتحال کے درمیان نئی ہلچل دیکھی ہے۔ الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق، مقامی عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ اریٹیریا کے فوجی اتھیوپیا کے شمالی علاقوں کے اندر سرگرم عمل نظر آئے ہیں۔
اس صورتحال نے خطے میں امن پر نظر رکھنے والے حلقوں کو تشویش میں مبتلا کر دیا ہے۔ مقامی بیانات کے حوالے سے الجزیرہ نے بتایا ہے کہ اس قسم کی عسکری نقل و حرکت اس خطے کے پہلے سے ہی غیر محفوظ عوام کے لیے مزید مشکلات کا باعث بن سکتی ہے۔
اسمارا کی طرف سے الزامات کی تردید
ان تمام اطلاعات کے جواب میں اسمارا کی حکومت نے سخت ردعمل کا اظہار کیا ہے۔ الجزیرہ کے مطابق، اریٹیریا نے ان دعوؤں کو یکسر مسترد کرتے ہوئے انہیں اتھیوپیا کی طرف سے جنگ کا بہانہ قرار دیا ہے۔
اس سفارتی ڈیڈ لاک سے دونوں ہمسایہ ممالک کے درمیان پائے جانے والے گہرے عدم اعتماد کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔ بین الاقوامی مبصرین گہری نظر رکھے ہوئے ہیں جبکہ دونوں اطراف سے بیانات کا تبادلہ جاری ہے۔
خطے کا امن خطرے میں
یہ تازہ پیشرفت اتھیوپیا کے شمالی حصوں میں برسوں کی تباہ کن کشیدگی کے بعد پیدا ہونے والی مستقل کشمکش کی عکاسی کرتی ہے۔ الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق، اتھیوپیا کی سرزمین پر غیر ملکی فوجیوں کی اس غیر مصدقہ موجودگی نے خطے میں پائیدار امن کے حصول کی کوششوں کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔
انسانی حقوق کی تنظیمیں اور بین الاقوامی شراکت دار مسلسل تمام فریقین سے تحمل کا مظاہرہ کرنے کی اپیل کر رہے ہیں۔ سرحد کے دونوں جانب بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث عالمی برادری کسی بھی ایسے اقدام پر نظر رکھے ہوئے ہے جس سے وسیع تر خطے پر اثر پڑ سکتا ہے۔
