اقوام متحدہ میں ایتھوپیا اور اریٹیریا کے درمیان شدید الفاظ کی جنگ شروع ہو چکی ہے جس نے قرنِ افریقہ میں ایک نئی جنگ کے خطرات کو نمایاں کر دیا ہے۔ الجزیرہ، اے پی اور رروئٹرزٹرز کے مطابق، دونوں ہمسایہ ممالک نے شمالی ایتھوپیا کے علاقے تگرائے میں لڑائی کے دوران ایک دوسرے پر جارحیت کے باضابطہ الزامات عائد کیے ہیں۔
اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے نام ایک خط میں، ایتھوپیا کے وزیر خارجہ گیدگیڈیون تیموتھیوس نے بتایا کہ اریٹیریا کے دستے تگرائے کے اندر 60 کلومیٹر (37 میل) تک آگے بڑھ آئے ہیں، اور اس مبینہ مداخلت کو کھلی جارحیت قرار دیا۔ الجزیرہ، اے پی اور رروئٹرزٹرز کی رپورٹ کے مطابق، اقوام متحدہ کے چارٹر کے آرٹیکل 51 کا حوالہ دیتے ہوئے ایتھوپیا نے اپنے دفاع کے موروثی حق پر زور دیا۔
دوسری جانب، اریٹیریا نے ان الزامات کو یکسر مسترد کر دیا۔ انہی رپورٹس کے مطابق، اریٹیریا کے وزیر خارجہ عثمان صالح نے سلامتی کونسل کو خط لکھ کر ایتھوپیا کے الزامات کو کسی حملے کا بہانہ قرار دیا، اور کونسل پر زور دیا کہ وہ اس خطرناک جنگ کے اعلان کی مذمت کرے جبکہ وسیع علاقائی عدم استحکام سے خبردار کیا۔
بلومسبری انٹیلی جنس اینڈ سیکیورٹی انسٹی ٹیوٹ (بی آئی ایس آئی) کے تجزیہ کار حسام الدین ابراہیم نے رپورٹنگ میں نوٹ کیا کہ دونوں ممالک کے بیانات میں تصدیق کے قابل عناصر موجود ہیں، اور خبردار کیا کہ اصل خطرہ اس بات میں ہے کہ ہر فریق دوسرے کے بیانات کو اپنے وجود کے لیے خطرہ سمجھ رہا ہے۔
پس منظر
الجزیرہ، اے پی اور رروئٹرزٹرز کے مطابق، ایتھوپیا اور اریٹیریا نے 1998 اور 2000 کے درمیان ایک خونی سرحدی جنگ لڑی تھی۔ اگرچہ 2018 میں وزیر اعظم ابی احمد کے اقتدار میں آنے کے بعد تعلقات بہتر ہوئے تھے، اور دونوں ممالک 2020 سے 2022 کی تگرائے جنگ کے دوران اتحادی بھی رہے، لیکن اس کے بعد سے تعلقات میں کشیدگی آ گئی ہے۔ موجودہ کشیدگی کی وجوہات میں 2022 کے اس امن معاہدے پر اختلافات بھی شامل ہیں جس نے شمالی ایتھوپیا کی خانہ جنگی کا خاتمہ کیا تھا، اس کے علاوہ بحیرہ احمر تک براہ راست رسائی کے لیے ادیس ابابا کے مسلسل مطالبات نے عصب کی بندرگاہ کے حوالے سے اریٹیریا کے خدشات کو مزید بڑھا دیا ہے۔
اہمیت کیوں ہے؟
بین الاقوامی برادری کے لیے قرنِ افریقہ میں نئی کشیدگی اہم سفارتی اور معاشی اثرات رکھتی ہے۔ علاقائی تنازعات عالمی تجارتی راستوں اور انسانی امداد کے تسلسل کو متاثر کرتے ہیں، جو پیچیدہ زمینی اور سمندری تنازعات کے حل کے لیے بین الاقوامی سفارت کاری اور بین الاقوامی قانون کی پاسداری کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہیں۔

