قرنِ افریقہ میں کشیدگی اس وقت خطرناک حد تک بڑھ گئی ہے جب ہمسایہ ممالک ایتھوپیا اور ارتریا نے ایک دوسرے پر باقاعدہ جنگ شروع کرنے کے الزامات عائد کیے ہیں۔ الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق، جو کہ اے ایف پی اور رائٹرز کے حوالے سے دی گئی ہے، ایتھوپیا نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کو ایک پیغام میں ارتریا پر مکمل حملے کا الزام لگایا ہے، جبکہ اسمارا نے جوابی مؤقف اختیار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اسے جارحانہ جنگ کا سامنا ہے۔
جمعرات کے روز فرانسیسی وزیر خارجہ ژاں نوئل باروٹ کے نام لکھے گئے ایک خط میں ایتھوپیا کے وزیر خارجہ گیدگیڈیون تیموتیووس نے بتایا کہ ارتریا کے دستے ایتھوپیا کے شمالی علاقے تیگرائے میں 60 کلومیٹر اندر تک بڑھ آئے ہیں۔ الجزیرہ کے مطابق انہوں نے اسے کھلا جارحانہ اقدام قرار دیا۔ گیدگیڈیون نے ارتریا کی افواج کے فوری انخلا کا مطالبہ کیا ہے، اور یہ پیشرفت دونوں ممالک کے درمیان سفارتی تعلقات منقطع ہونے کے چند دن بعد سامنے آئی ہے۔
الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق ارتریا کے وزیر اطلاعات یمانے گیبرمیسکیل نے ایکس پر ان دعوؤں کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ایتھوپیا کی حکومت تین سال سے زائد عرصے سے ارتریا کے خلاف غیر مشعال جنگ جاری رکھے ہوئے ہے۔ یمانے نے مؤقف اختیار کیا کہ خشکی میں گھرے ہوئے ملک ایتھوپیا کی جانب سے 2023 میں سمندر تک رسائی کے حصول کے اعلان کے بعد سے اسمارا نے تحمل کا مظاہرہ کیا ہے۔ مزید برآں، ارتریا نے ایتھوپیا کے ان الزامات کی بھی تردید کی کہ وہ تیگرائے پیپلز لبریشن فرنٹ (ٹی پی ایل ایف) کی پشت پناہی کر رہا ہے، جو وزیراعظم ابی احمد کی حکومت کا تختہ الٹنے کی کوشش کرنے والے اتحاد کا حصہ ہے۔
اے ایف پی کو عینی شاہدین نے بتایا کہ باغیوں کو حال ہی میں تیگرائے کے شہروں شیرے اور ادیگرات سے ہاتھ دھونا پڑے ہیں، اور ایتھوپیا کے ڈرون حملوں سے پہلے ادیگرات میں ارتریا کے فوجیوں کی موجودگی کی اطلاعات بھی سامنے آئیں ہیں۔ الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق گزشتہ ایک ہفتے کے دوران ایتھوپیا کی فوج نے ٹیگرائے کے باغیوں کو پیچھے دھکیلتے ہوئے دارالحکومت میکیل کا کنٹرول سنبھال لیا ہے۔
پس منظر
الجزیرہ کے مطابق ایتھوپیا اور ارتریا کی تاریخ اتار چڑھاؤ کا شکار رہی ہے۔ ارتریا نے 1993 میں ایتھوپیا سے آزادی حاصل کی، جس کے بعد دونوں ممالک کے درمیان 1998 سے شروع ہونے والی دو سالہ تباہ کن سرحدی جنگ لڑی گئی۔ اس کے بعد سے کشیدگی برقرار رہی ہے، جو حالیہ دنوں میں قرنِ افریقہ اور بحیرہ احمر کے تنازعات کی وجہ سے مزید بڑھ گئی ہے۔ گزشتہ ہفتے سفارتی تعلقات اس وقت مکمل طور پر ختم ہو گئے جب ایتھوپیا نے اسمارا میں اپنا سفارت خانہ بند کر کے 10 ارترین سفارت کاروں کو ملک چھوڑنے کا حکم دیا، جس کے جواب میں ارتریا نے باضابطہ طور پر تعلقات منقطع کر لیے۔
یہ صورتحال کیوں اہم ہے
پاکستان اور پوری بین الاقوامی برادری کے قارئین کے لیے قرنِ افریقہ میں نئی کشیدگی کے اہم جیو پولیٹیکل اور معاشی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ اہم عالمی تجارتی گزرگاہوں اور بحیرہ احمر کے قریب اس حساس خطے میں عدم استحکام عالمی تجارت کو متاثر کر سکتا ہے، توانائی اور رسد کے عالمی سلسلوں پر اثرانداز ہو سکتا ہے، اور مشرقی افریقہ میں انسانی بحران کو مزید سنگین بنا سکتا ہے۔

