جب سکرینیں اچانک ہنگامی مناظر اور ریکارڈ شدہ موسیقی پر منتقل ہوئیں تو بڑے بڑے نیوز رومز میں کہرام مچ گیا۔ بزنس ریکارڈر کے مطابق جمعہ کے روز یورپی براڈکاسٹنگ اداروں کو بیک وقت موصول ہونے والی بم کی دھمکیوں نے پورے براعظم میں ہلچل مچا دی۔

آئرلینڈ کے آر ٹی ای (RTE)، برطانیہ کے سکائی (Sky) اور بلغاریہ کے نُوا ٹی وی (Nova TV) سمیت کئی اہم نشریاتی ادارے اس لہر کی زد میں آئے۔ متعلقہ اداروں نے فوری طور پر عملے کو عمارتوں سے باہر نکال لیا۔ آر ٹی ای کی نشریات تین گھنٹے تک معطل رہیں اور معمول کے پروگرام روک کر موسیقی چلائی گئی۔ بزنس ریکارڈر نے تصدیق کی کہ اتنے بڑے پیمانے پر پھیلنے والی گھبراہٹ کے باوجود کسی بھی مقام سے کوئی بارودی مواد برآمد نہیں ہوا۔

پس منظر

بزنس ریکارڈر کے مطابق یہ واقعہ ایسے وقت میں پیش آیا جب چند روز قبل سربیا، فن لینڈ اور اسپین سمیت مختلف ممالک میں مسافر طیاروں کو بھی اسی طرح کی جھوٹی دھمکیاں دی گئی تھیں۔ ان ہوائی واقعات کے نتیجے میں طیاروں کی ہنگامی لینڈنگ اور فلائٹ ڈائیورژن کرانی پڑی لیکن وہاں بھی تلاشی کے دوران کچھ نہیں نکلا۔ رپورٹ میں بتایا گیا کہ یہ سکیورٹی خدشات ایک ایسے وقت سامنے آئے ہیں جب ڈیجیٹل حملوں اور سپر مارکیٹس کو نشانہ بنانے والے سائبر سکیورٹی کے واقعات میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ آر ٹی ای اور نُوا ٹی وی کو موصول ہونے والی دھمکی آمیز ای میلز کا عنوان 'مغرب کے لیے پیغام' تھا جس میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ مقررہ وقت کے اندر دھماکہ خیز ڈیوائس پھٹ جائے گی۔ یہ پیغامات میخائل اندروبوف کے نام سے بھیجے گئے، جن کے بارے میں کہا گیا کہ وہ طیاروں کو دھمکیاں دینے والے گروہ کا سرغنہ ہے۔

اس کی کیا اہمیت ہے

پاکستانی ناظرین اور مبصرین کے لیے بین الاقوامی سطح پر ہونے والے ایسے سکیورٹی واقعات یہ یاد دہانی کراتے ہیں کہ آج کا میڈیا انفراسٹرکچر اور ڈیجیٹل مواصلات کتنے آپس میں جڑے ہوئے ہیں۔ اگرچہ یہ دھمکیاں جھوٹی ثابت ہوئیں، لیکن بڑے اداروں کو درپیش سائبر خطرات اور ہم آہنگ جھوٹے الارم اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ عالمی سطح پر اہم ادارے کتنے نازک دور سے گزر رہے ہیں۔