جمہوری جمہوریہ کانگو کے سابق صدر جوزف کابیلا نے ایک بار پھر سیاسی منظر نامے پر قدم رکھتے ہوئے ایک نئے باغی اتحاد کی سربراہی سنبھال لی ہے۔ بی بی سی کی رپورٹ کے مطابق، 'فرنٹ فار دی ری فاؤنڈیشن آف دی نیشن' (ایف آر این) کے نام سے بننے والے اس نئے اتحاد نے اعلان کیا ہے کہ وہ ملک میں مبینہ ناانصافی کے خاتمے کے لیے مزاحمتی قوتوں کو یکجا کرے گا اور اپنے مقاصد کے حصول کے لیے طاقت سمیت ہر ممکن ذریعہ استعمال کرے گا۔
بی بی سی کے مطابق، اس اتحاد کی قیادت کا اعلان مشیر کلاؤڈ ایبالانکی نے گوما میں جوزف کابیلا کی رہائش گاہ پر ایک پریس کانفرنس کے دوران کیا۔ مشرقی کانگو کا یہ سب سے بڑا شہر گزشتہ سال سے ایم 23 کے قبضے میں ہے۔ اتحاد کی طرف سے جاری کردہ ویڈیو فوٹیج میں جوزف کابیلا کو دیگر رہنماؤں کے ساتھ دستاویزات پر دستخط کرتے ہوئے دکھایا گیا، جن میں ایم 23 کے رہنما سلطانی ماکینگا بھی شامل ہیں جو کابیلا کے چار نائبوں میں سے ایک کے طور پر فرائض انجام دیں گے۔ بی بی سی کے مطابق، اس اعلان سے ایک سال قبل غداری کے الزام میں جوزف کابیلا کو غیر حاضری میں موت کی سزا سنائی گئی تھی، حالانکہ وہ اس سے قبل ایم 23 گروپ کے ساتھ کسی بھی قسم کے تعلق کی تردید کرتے رہے ہیں۔
پس منظر
بی بی سی کی رپورٹ کے مطابق، جوزف کابیلا نے سنہ 2001 سے جنوری 2019 تک جمہوری جمہوریہ کانگو پر حکومت کی، جب ایک متنازع انتخاب کے بعد صدر فیلکس تشیسیکیڈی نے عہدہ سنبھالا۔ اگرچہ دونوں رہنماؤں نے ابتدا میں اقتدار کی تقسیم کا ایک غیر رسمی معاہدہ کیا تھا، لیکن بعد میں ان کے درمیان اختلافات پیدا ہو گئے۔ کابیلا سنہ 2023 میں خود ساختہ جلاوطنی اختیار کرنے کے بعد گزشتہ سال گوما واپس آئے اور زیادہ تر منظر عام سے دور رہے، تاہم حالیہ دنوں میں وہ اپنے جانشین کی انتظامیہ پر مسلسل تنقید کر رہے ہیں۔ اس اتحاد کے اعلان سے چند دن قبل، کابیلا نے ایک خطاب میں حکومت پر الزام عائد کیا تھا کہ وہ ان کی تجاویز کو نظر انداز کر رہی ہے، آئینی اصولوں کو نقصان پہنچا رہی ہے، معیشت کو سنبھالنے میں ناکام رہی ہے، ملک کی سیکیورٹی کو یقینی بنانے میں ناکام رہی ہے اور سیاسی مخالفین اور فوجی افسران کی من مانی گرفتاریاں کر رہی ہے۔
بی بی سی نے نشاندہی کی کہ وسیع تر خطہ کئی دہائیوں سے تشدد کی لپیٹ میں ہے، جہاں نسلی کشیدگی اور سیاسی اقتدار و منافع بخش قدرتی وسائل پر کنٹرول کی جنگ لڑنے والے 100 سے زائد ملیشیا گروہ سرگرم ہیں۔ اقوام متحدہ اور مغربی حکومتوں نے رووانڈا پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ ایم 23 کے باغیوں کی پشت پناہی کر رہا ہے اور انہیں کنٹرول کرتا ہے، جب کہ رووانڈا اس حمایت کی تردید کرتا ہے اور اصرار کرتا ہے کہ اس کی فوجی موجودگی کانگو کے مسلح گروپوں کے خلاف ایک دفاعی اقدام ہے۔
یہ پیشرفت کیوں اہم ہے
بین الاقوامی مبصرین اور عالمی امور پر نظر رکھنے والوں کے لیے، ایک سابق سربراہ مملکت کا کسی مسلح باغی اتحاد کے ساتھ صف آرا ہونا دیرینہ علاقائی بحران میں ایک سنگین پیشرفت ہے۔ یہ صورتحال معدنیات سے مالامال ان خطوط پر حکمرانی اور سیکیورٹی کی نزاکت کو اجاگر کرتی ہے جہاں متعدد مسلح دھڑے اقتدار کے لیے برسرپیکار ہیں، جس سے پڑوسی ممالک اور بین الاقوامی مبصرین بھی اس میں فریق بن رہے ہیں۔

