الخلیل کے رہائشیوں کو سخت فوجی محاصرے کے بعد بغیر کسی پیشگی اطلاع کے اپنے گھر چھوڑنے پر مجبور ہونا پڑا، جن کے خالی گھروں کے دروازوں پر سیاہ رنگ کے نشانات بنا دیے گئے ہیں۔ الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق، 23 اکتوبر کو ایک قریبی چوکی پر دو اسرائیلی فوجیوں کی ہلاکت کے بعد شروع ہونے والے فوجی محاصرے کے دوران مکینوں کو 'الجلدہ اسکوائر' خالی کرنے کا حکم دیا گیا۔

الجزیرہ کے توسط سے اقوام متحدہ کے فلاحی ادارے برائے مہاجرین 'اونروا' نے بتایا ہے کہ محض ایک ہفتے کے دوران تقریباً 5,000 فلسطینی بے گھر ہو چکے ہیں۔ ادارے نے ان اقدامات کو بین الاقوامی قانون کی صریح خلاف ورزی اور اجتماعی سزا قرار دیا ہے۔

پس منظر

الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق، مقبوضہ مغربی کنارے کے سب سے بڑے شہر الخلیل میں 23 اکتوبر سے سخت محاصرہ جاری ہے، جس کی زد میں تقریباً 8 لاکھ فلسطینیوں پر مشتمل پورا صوبہ آ چکا ہے۔ فوجیوں نے بعض خالی کرائے گئے رہائشی مکانات کو فوجی چوکیوں میں تبدیل کر دیا ہے۔

اقوام متحدہ کے دفتر برائے رابطہ انسانی امور (اوچا) کے اعداد و شمار کے مطابق، جو الجزیرہ نے تفصیل سے بیان کیے ہیں، 2009 سے لے کر محاصرے کے آغاز تک اسرائیلی فورسز نے الخلیل کے صوبے میں 2,491 عمارتیں مسمار کیں اور 3,534 فلسطینیوں کو بے گھر کیا۔ اوچا نے بتایا کہ ایریا سی اور مقبوضہ مشرقی بیت المقدس میں 2024 سے مسماریوں کی ماہانہ اوسط اس سے پچھلے 15 سالوں کے مقابلے میں کم از کم دگنی ہو چکی ہے، جس کی بڑی وجہ اجازت ناموں کا سخت نظام ہے۔

جنوبی الخلیل کی پہاڑیوں میں 13 بستیوں پر مشتمل علاقے مسافر یطا میں، اوچا اور الجزیرہ کے ریکارڈ کے مطابق، 15 سالوں میں لگ بھگ 400 عمارتیں مسمار کی جا چکی ہیں جن سے 969 فلسطینی بے گھر ہوئے، اور ان میں سے تقریباً نصف مسماریاں جنوری 2025 کے بعد سے اب تک کی گئی ہیں۔ اونروا کے مغربی کنارے کے ڈائریکٹر رولینڈ فریڈرک نے بیان کیا کہ موجودہ واقعات 2025 کے اوائل میں مقبوضہ مغربی کنارے کے شمال میں ہونے والی بڑی نقل مکانی کی یاد دلاتے ہیں، جب جنین، طولکرم اور نور شمس کے مہاجر کیمپ خالی کرا لیے گئے تھے۔

اونروا نے رپورٹ کیا کہ جنوری 2025 میں شروع ہونے والے 'آئرن وال' آپریشن کے بعد سے شمالی کیمپوں کے 34,000 سے زائد فلسطینی مہاجرین اب تک بے گھر ہیں، جس آپریشن کے دوران ان کی نصف سے زیادہ رہائشی عمارتیں تباہ کر دی گئی تھیں۔ اوچا کے مسماری ریکارڈ سے مزید پتہ چلتا ہے کہ 2009 سے اکتوبر 2026 کے درمیان جنین اور طولکرم کے صوبوں میں 1,399 عمارتیں مسمار کی گئیں جن سے 4,139 افراد بے گھر ہوئے، اگرچہ یہ اعداد و شمار بنیادی طور پر اجازت ناموں اور سزاؤں کے تحت ہونے والی مسماریوں کا احاطہ کرتے ہیں نہ کہ فوجی کارروائیوں کے دوران ہونے والے نقصان کا۔

اس صورتحال کی اہمیت

بین الاقوامی قانون اور انسانی حقوق پر نظر رکھنے والے قارئین کے لیے، کمیونٹیز کی مسلسل نقل مکانی اور رہائشی علاقوں کی تباہی خطے میں رہائش کے حقوق اور انسانی صورتحال کے حوالے سے سنگین چیلنجز کو اجاگر کرتی ہے۔ اقوام متحدہ کے اداروں کی رپورٹس ان ہزاروں خاندانوں پر پڑنے والے شدید انسانی اثرات کو نمایاں کرتی ہیں جو اپنے گھروں سے محروم ہو چکے ہیں۔