ڈیجیٹل مالیات کی تاریخ میں اب تک کی سب سے بڑی نقزنبی سامنے آئی ہے، جہاں ایک ہی حملے میں اربوں ڈالر کے اثاثے ہوا میں معلق ہو گئے۔ الجزیرہ اور رروئٹرزٹرز کی رپورٹ کے مطابق امریکی تحقیقاتی ادارے ایف بی آئی نے اس تاریخی واردات کا الزام براہ راست شمالی کوریا پر عائد کیا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ اس کارروائی میں جدید ترین سائبر طریقوں کا استعمال کیا گیا، جس نے ڈیجیٹل دنیا کی سکیورٹی پر بڑے سوالیہ نشان چھوڑ دیے ہیں۔
الجزیرہ کی اطلاعات کے مطابق ایف بی آئی نے بتایا ہے کہ اس حملے کے پیچھے ملوث عناصر نے چوری شدہ رقم کو زیادہ تر ایتھریم میں تبدیل کر کے ٹھکانے لگانے کی کوشش کی۔ امریکی ادارے نے اس کارروائی کا سراغ ٹریڈر ٹریڑر نامی گروپ سے جوڑا ہے، جس پر ماضی میں بھی بڑے مالیاتی پلیٹ فارمز سے اربوں ڈالر چرانے کا الزام رہ چکا ہے۔ ایف بی آئی نے تمام متعلقہ اداروں کو خبردار کیا ہے کہ وہ مشکوک ڈیجیٹل پتوں پر نظر رکھیں تاکہ مزید منی لانڈرنگ کو روکا جا سکے
رائٹرز کے مطابق اس ہنگامہ خیز صورتحال کے جواب میں بائنانس نے اپنے وسائل سے صارفین کے 90 فیصد نقصانات کا ازالہ کر دیا ہے۔ بائنانس کے مطابق باقی ماندہ 10 فیصد حصہ ایسے ٹوکنز پر مشتمل ہے جن کے حصول میں کچھ وقت لگ سکتا ہے۔ ادارے نے اپنے بیان میں واضح کیا کہ صارفین کو اس مالی نقصان سے بچانے کے لیے کمپنی نے اپنے محفوظ فنڈز اور کارپوریٹ ریزرو کا استعمال کیا۔ اس بڑی خبر کے سامنے آتے ہی جمعہ کے روز کرپٹو مارکیٹ میں قیمتوں میں کمی کا رجحان دیکھا گیا
پس منظر
الجزیرہ اور رائٹرز کی رپورٹس کے مطابق یہ سکیورٹی خلاف ورزی ایک انتہائی پیچیدہ حملے کے ذریعے کی گئی، جس میں ایک ہیک شدہ لیپ ٹاپ اور ایسا خطرناک سافٹ ویئر استعمال ہوا جو تمام شواہد کو مٹانے کی صلاحیت رکھتا تھا۔ بائنانس کے کو-سی ای او رچرڈ ٹینگ نے جمعہ کے روز ان تفصیلات سے پردہ اٹھاتے ہوئے بتایا کہ حملے کے فوراً بعد رقوم کی نکاسی عارضی طور پر معطل کر دی گئی تھی۔ تاہم سنیچر تک ادارے نے اتوار تک لین دین بحال کرنے کا عندیہ دیا اور اثاثوں کی شفافیت کے لیے نئی فہرست جاری کی
اس کی اہمیت کیا ہے
پاکستان سمیت دنیا بھر میں ڈیجیٹل اثاثوں کے صارفین اور تجزیہ کاروں کے لیے یہ واقعہ اس بات کا غماز ہے کہ غیر مرئی مالیاتی نیٹ ورکس میں خطرات کتنے گہرے ہیں۔ جب بین الاقوامی ادارے اور حکومتیں ورچوئل اثاثوں کی سخت نگرانی کر رہی ہیں، ایسے بڑے پیمانے کے سائبر حملے عالمی کرپٹو ایکسچینجز کو درپیش انتظامی اور تکنیکی چیلنجوں کو آشکار کرتے ہیں
