عالمی فٹ بال کی نگران تنظیم فیفا کے اندرونی حالات کشیدہ ہو چکے ہیں کیونکہ صدر جیانی انفانتینو کا اصرار ہے کہ انہیں عالمی فٹ بال برادری کی بھاری اکثریت کی حمایت حاصل ہے۔ بی بی سی اسپورٹس کے مطابق ایک نادر انٹرویو کے دوران انہوں نے ورلڈ کپ کے تجارتی حقوق کے تنازع پر استعفیٰ دینے سے متعلق سوالات کو ہنسی میں اڑا دیا۔
بی بی سی اسپورٹس کی رپورٹ کے مطابق، متنازع فیفا فارورڈ انٹرپرائز (ایف ایف ای) کی تجویز کے بعد اپنے منصب پر قائم رہنے کے حوالے سے جیانی انفانتینو کا لہجہ انتہائی پراعتماد تھا۔ انہوں نے مؤقف اختیار کیا کہ تمام مختلف آراء کو ایک چھت کے نیچے لانا ہمیشہ آسان نہیں ہوتا، اور یہ کہ اختلافات ہونا قبلِ قبول ہے بشرطیکہ تمام فریقین آخرکار آگے بڑھنے کا راستہ نکال لیں۔
پس منظر
بی بی سی اسپورٹس کے مطابق، 2016 سے فیفا کی قیادت کرنے والے انفانتینو کو دو ماہ قبل اس ادارے سے مستعفی ہونے کے بڑھتے ہوئے مطالبات کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ یورپی فٹ بال گورننگ باڈی (یوفا)، ایشیائی فٹ بال کنفیڈریشن اور کونکاکاف کے سربراہان نے ایک خط پر دستخط کیے تھے جس میں فیفا صدر پر دھوکہ دہی کے ذریعے اعتماد توڑنے کا الزام لگایا گیا تھا۔
یہ تنازع ایف ایف ای کی تجویز سے پیدا ہوا جسے انفانتینو نے چند دنوں کے اندر ہی منسوخ کر دیا تھا۔ اس تجویز کے تحت فیفا کے مقابلوں کے تجارتی حقوق کا ایک حصہ ایک نجی سرمایہ کاری ادارے کو فروخت کیا جانا تھا۔ گزشتہ ہفتے یوفا نے مطالبہ کیا تھا کہ فیفا دو نومبر تک ایف ایف ای سے متعلق تمام اہم دستاویزات جاری کرے، جبکہ یوفا کے جنرل سیکریٹری تھیوڈور تھیوڈورڈس نے بیان دیا تھا کہ تنظیم بنیادی سوالات کے جواب دینے میں ناکام رہی ہے۔
اس تمام کشیدگی کے باوجود، بی بی سی اسپورٹس کے مطابق، انفانتینو نے دنیا بھر کا دورہ کر کے اپنی حمایت کو مضبوط کیا ہے۔ انہوں نے ایشیائی فٹ بال کنفیڈریشن (جس کے صدر شیخ سلمان نے اپنے پہلے فیصلے سے یو ٹرن لیا) اور تمام افریقی ممالک سے حمایت حاصل کر لی ہے۔ نتیجتاً، اگلے سال ان کا چوتھی مدت کے لیے دوبارہ انتخاب ناگزیر دکھائی دیتا ہے۔ تاہم، انہوں نے حال ہی میں ایف ایف ای کے حوالے سے ابلاغ کی خرابی پر فیفا کونسل سے معافی بھی مانگی تھی، جہاں اراکین نے انہیں خبردار کیا تھا کہ اگر وہ مطلوبہ دستاویزات فراہم کرنے میں ناکام رہے تو وہ قیادت کے لائق نہیں ہیں۔
اس تنازع کی اہمیت کیوں ہے
پاکستان سمیت دنیا بھر میں کھیل کے شائقین اور عالمی کھیلوں کی انتظامیہ پر نظر رکھنے والوں کے لیے فٹ بال کی اعلیٰ ترین سطح پر جاری یہ کشمکش تجارتی حقوق، شفافیت اور مالیاتی فنڈز کی تقسیم کے معاملات پر علاقائی کنفیڈریشنز اور عالمی اداروں کے درمیان جاری تناؤ کو ظاہر کرتی ہے۔

