جب اتوار کے روز نیپال کے ضلع گورکھا میں پانی کا ایک طوفانی ریلا دریائے بوڑھی گنداکی میں اترا، تو خوفزدہ لوگ اونچی جگہوں پر کھڑے ہو کر بے بسی سے یہ تباہی اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے تھے اور کیمروں میں محفوظ کر رہے تھے۔ الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق، لینڈ سلائیڈنگ کے نتیجے میں آنے والے اس اچانک سیلاب نے ندی کنارے بنی متعدد عمارتیں اور ایک پل اپنی لپیٹ میں لے کر بہا دیا۔
یہ آفت اتنی اچانک نازل ہوئی کہ مکینوں کو سنبھلنے کا موقع تک نہ ملا اور دیکھتے ہی دیکھتے بڑھتے ہوئے پانی نے ندی کنارے موجود گھروں کو نگل لیا۔ الجزیرہ کے مطابق، اس شدید ترین بہاؤ نے ضلع گورکھا میں تباہی کے گہرے نشان چھوڑے ہیں، اور موقع پر بنائی گئی ویڈیوز اس سیلابی پانی کی بے پناہ طاقت کی گواہی دے رہی ہیں۔
پس منظر
الجزیرہ کے مطابق، اس تباہ کن سیلاب کی براہِ راست وجہ لینڈ سلائیڈنگ بنی۔ ندی کے بالائی حصے میں ہونے والی اس زمینی تودہ گرنے کی کارروائی نے نیچے کی طرف پانی کا ایک غیر معمولی ریلا دھکیل دیا، جس نے پورے علاقے کو اپنی لپیٹ میں لے کر گھروں اور ایک پل سمیت مقامی ڈھانچے کو تباہ کردیا۔
اس کی اہمیت
پاکستان کے عام قارئین کے لیے قدرتی آفات کے یہ اچانک حملے اس بات کی یاد دہانی ہیں کہ فلیش فلڈز یعنی اچانک آنے والے سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ کتنی تباہ کن طاقت رکھتی ہیں۔ پورے جنوبی ایشیائی خطے میں جغرافیائی اور موسمیاتی لحاظ سے ایسے خطرات کی مشترکہ نزاکت پائی جاتی ہے۔

