معمول کی ایک فوجی تربیتی پرواز اس وقت المیہ بن گئی جب شمالی بوسنیا میں یورپی یونین فورس (EUFOR) کا ایک ہیلی کاپٹر گر کر تباہ ہو گیا۔ الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق، اے ایف پی اور رائٹرز کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ سی ایچ 47 چینوک ہیلی کاپٹر برکو کے علاقے میں اس وقت حادثے کا شکار ہوا جب وہ ایوفور کے اطالوی دستے کی پرواز کے دوران فضا میں تھا۔

الجزیرہ نے بتایا کہ اطالوی حکومت نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ فوجی طیارے پر سوار تمام افراد کا تعلق اٹلی سے تھا۔ اطالوی وزارتِ دفاع کے مطابق جاں بحق ہونے والوں میں دو فوجی اور دو ریڈ کراس کے رضاکار شامل ہیں۔ برکو اسپتال کے ایک ترجمان نے اے ایف پی کو بتایا کہ حادثے کے وقت طیارے میں 15 افراد سوار تھے۔ اس حادثے میں ابتدا میں تین افراد کی ہلاکت کی تصدیق ہوئی تھی، جبکہ چوتھا شخص اسپتال میں زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے دم توڑ گیا۔ ایوفور نے بتایا کہ باقی 11 زخمی افراد کا علاج جاری ہے اور ان کی حالت خطرے سے باہر ہے۔

اٹلی کے وزیرِ دفاع گیویڈو کروسیٹو نے اپنے تعزیتی بیان میں کہا، جیسا کہ الجزیرہ کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے، کہ اس غم کی گھڑی میں میری دعائیں سب سے پہلے ہمارے جاں بحق ہونے والے جوانوں کے لواحقین کے ساتھ ہیں، جن سے میں اور پوری وزارتِ دفاع تعزیت کا اظہار کرتی ہے۔ بوسنیائی میڈیا کی جانب سے حادثے کا شکار ہونے والے الٹے پڑے ہوئے ہیلی کاپٹر کی تصاویر بھی جاری کی گئی ہیں۔

پس منظر

ایوفور سال 2004 سے بوسنیا میں تعینات ہے، جس نے بوسنیا کی جنگ 1995 میں ختم ہونے کے بعد وہاں موجود نیٹو فورس کی امن بحالی کی ذمہ داریاں سنبھالی تھیں۔ الجزیرہ کے مطابق اس مشن میں 1000 سے 1500 اہلکار شامل ہیں جن کا کام ڈےٹن امن معاہدے پر عمل درآمد کی نگرانی کرنا ہے، جس نے تین سالہ تنازع کا خاتمہ کیا تھا۔

اہمیت کیوں رکھتی ہے؟

عالمی امن مشنوں کا مشاہدہ کرنے والوں اور خبروں پر نظر رکھنے والوں کے لیے معمول کی تربیتی مشقوں کے دوران پیش آنے والے یہ فضائی حادثات ان خطرات کو ظاہر کرتے ہیں جو بیرون ملک امن مشنوں پر تعینات فوجی اور فلاحی عملے کو درپیش ہوتے ہیں۔ کثیر القومی دستوں پر مشتمل بین الاقوامی مشن پیچیدہ خطوں میں سخت تیاری اور آپریشنل خطرات کے درمیان توازن برقرار رکھتے ہیں۔

آگے کیا ہوگا؟

ایوفور کا کہنا ہے کہ اس حادثے کی مکمل اور جامع تحقیقات شروع کر دی گئی ہیں اور جیسے ہی مصدقہ معلومات سامنے آئیں گی، مزید تفصیلات جاری کی جائیں گی۔