فرانس میں اس وقت انتہائی کشیدگی کا عالم ہے اور ملک بھر میں 70 ہزار سے زائد پولیس اہلکار اور جنڈرمیری کے دستے تعینات کر دیے گئے ہیں۔ الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق اس سکیورٹی کا مقصد اسکولوں کے بگڑتے ہوئے حالات اور مہنگائی کے خلاف نئے مظاہروں کے دوران امن و امان کو برقرار رکھنا ہے۔
حکام اس بات کے لیے پرعزم ہیں کہ ہفتے کے روز ہونے والے مظاہرے اس بڑے پیمانے پر ہونے والے تشدد، لوٹ مار اور توڑ پھوڑ کا روپ نہ دھار لیں، جو 17 اکتوبر کو ہونے والے مظاہروں کے دوران دیکھی گئی تھی۔ الجزیرہ کے مطابق اس روز ہزاروں کاروبار کو نقصان پہنچا تھا اور 2 ہزار سے زائد افراد کو پولیس نے حراست میں لیا تھا۔
سکیورٹی آپریشن کو سنبھالنے کے لیے وزیر داخلہ لوراں نونیز نے بتایا کہ پچھلے ہفتے کے مقابلے میں 20 فیصد زیادہ اہلکار تعینات کیے گئے ہیں، جبکہ انسداد دہشت گردی کی ایلیٹ فورس ریڈ براہ راست ہجوم کو کنٹرول کرنے کے بجائے آپریشنل مدد فراہم کرے گی۔ الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے کہا ہے کہ ٹریڈ یونینز کی جانب سے احتجاج کی درخواستوں کا مقامی سطح پر جائزہ لیا جائے گا، جبکہ دیگر گروہوں کی جانب سے منظم کیے جانے والے مظاہروں پر جہاں ممکن ہو پابندی لگائی جائے گی۔ نتیجے کے طور پر مونپلیے، روئیں، نیس اور لیون جیسے شہروں میں شہر کے اندرونی حصوں میں مظاہروں پر پابندی عائد کر دی گئی ہے، جبکہ مارسیے اور پیرس میں یونین کے جلوسوں کے لیے سخت شرائط یا متبادل راستے مقرر کیے گئے ہیں۔
پس منظر
الجزیرہ کی جانب سے پیش کردہ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق موجودہ ہلچل 17 اکتوبر کے شدید دنگوں کے بعد شروع ہوئی ہے، جن میں بڑے پیمانے پر لوٹ مار، توڑ پھوڑ اور جھڑپیں ہوئیں اور 2 ہزار سے زائد گرفتاریاں عمل میں آئیں۔ بڑھتے ہوئے تناؤ کے پیش نظر فرانسیسی حکام نے ہفتے کے روز کے مظاہروں پر سخت پالیسی اپناتے ہوئے اہم شہری علاقوں میں مخصوص راستوں اور مرکزی اجتماعات پر پابندی عائد کر دی۔
الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق وسطی پیرس میں دکانوں پر حفاظتی تختے لگا دیے گئے، تاجروں نے نجی سکیورٹی رکھ لی، کم از کم 24 میٹرو اسٹیشن بند کر دیے گئے اور لوور اور موزے د'اورسے جیسے اہم ثقافتی ادارے بھی بند رہے، جبکہ آرٹ باسل پیرس کا ویک اینڈ پروگرام بھی منسوخ کر دیا گیا۔ اس کے علاوہ، مظاہروں کے آغاز کے بعد صدر میکرون نے پہلی بار طلبہ تحریک کے نمائندوں سے ملاقات کی اور مزید اساتذہ فراہم کرنے اور پارکورسپ داخلہ کے نظام میں گہری اصلاحات کا وعدہ کیا۔
اس کی کیا اہمیت ہے
بین الاقوامی مشاہدین اور عام قارئین کے لیے بڑے پیمانے پر سکیورٹی کی نقل و حرکت اور عوامی مظاہروں پر پابندیاں اس نازک توازن کو ظاہر کرتی ہیں جو حکومتیں شہری بدامنی اور معاشی دباؤ کے دوران عوامی تحفظ، معاشی استحکام اور بنیادی آزادیوں کے درمیان برقرار رکھتی ہیں۔
الجزیرہ فرانس سمیت انسانی حقوق کی تنظیموں نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ سکیورٹی میں اس طرح کا اضافہ بنیادی آزادیوں اور پرامن اجتماع کے حق کی قیمت پر کیا جا رہا ہے، جو احتجاج کے انتظام اور ریاستی اختیارات کے حوالے سے عالمی سطح پر جاری بحث کی عکاسی کرتا ہے۔

