فرانس کے دارالحکومت میں ٹوٹے ہوئے شیشوں اور دھوئیں کے بادلوں کے درمیان پورا ملک جدید فرانسیسی تاریخ کے بدترین پرتشدد مناظر پر ششدر رہ گیا۔ بی بی سی نیوز کے مطابق، اتوار کے روز صدر ایمانوئل میکرون نے قوم سے خطاب کرتے ہوئے پرسکون رہنے اور قومی اتحاد کی اپیل کی، کیونکہ نقاب پوش گروہوں نے بڑے پیمانے پر پرامن مظاہروں کو پرتشدد جھڑپوں میں بدل دیا تھا۔
بی بی سی نیوز کی رپورٹ کے مطابق، ہفتے کے روز بڑھتی ہوئی مہنگی زندگی اور سرکاری تعلیم سمیت عوامی خدمات تک محدود رسائی کے خلاف پانچ لاکھ سے زائد افراد نے مظاہرہ کیا۔ تاہم، کالے کپڑے پہنے نقاب پوش کارکنوں اور دنگا فساد کرنے والوں کے آنے سے یہ مظاہرے پرتشدد رُخ اختیار کر گئے۔ بی بی سی نیوز نے بتایا کہ تخمینہ لگایا گیا ہے کہ 1500 دکانیں اور کاروباری ادارے لوٹے گئے اور تباہ کیے گئے، جبکہ فسادات پر قابو پانے والی پولیس نے آنسو گیس، واٹر کینن اور لاٹھی چارج کا استعمال کیا۔ فرانسیسی وزارت داخلہ کے بیان کے مطابق، جھڑپوں میں تقریباً 1000 پولیس اہلکار زخمی ہوئے جن میں سے 7 کی حالت تشویشناک ہے۔
بی بی سی نیوز کے مطابق، پیر کی صبح وزیر داخلہ لورین نونیز نے اپنے عہدے سے استعفیٰ دینے کی کوشش کی لیکن صدر میکرون نے انہیں مستعفی ہونے کے بجائے سڑکوں کو زیادہ محفوظ بنانے اور مجرموں کو قانون کے کٹہرے میں لانے کے لیے لائحہ عمل تیار کرنے کا کہا۔ لورین نونیز کو سیاسی مخالفین، ٹریڈ یونینز اور سوشل میڈیا پر ناقص تیاری کے حوالے سے شدید تنقید کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ اس کے علاوہ، بی بی سی نیوز کے مطابق فرانسیسی پارلیمنٹ کے ایوان زیریں کی صدر ییل براؤن پیویٹ نے ان واقعات کی تحقیقات شروع کرنے کا اعلان کیا ہے۔
پس منظر
بی بی سی نیوز کے مطابق، یہ بدامنی اس وقت شروع ہوئی جب مہنگائی اور سرکاری تعلیم جیسی عوامی خدمات تک ناقص رسائی کے خلاف پانچ لاکھ سے زائد افراد سڑکوں پر نکل آئے، جس کی بنیاد اس سے پچھلے ماہ شروع ہونے والے طلبہ مظاہروں پر تھی۔ صدر میکرون کے اتوار کے روز ٹیلی ویژن پر خطاب سے قبل عارضی کرفیو یا ہنگامی حالت کے نفاذ کی افواہیں گردش کرتی رہیں۔ فرانسیسی میڈیا میں صدر کی تقریر کو ٹھوس تفصیلات سے عاری ہونے کی وجہ سے شدید تنقید کا نشانہ بنایا گیا، اور سی جی ٹی یونین کی سیکرٹری جنرل سوفی بائنے نے اتوار کے روز صدر میکرون پر الزام لگایا کہ وہ طلبہ کے بنیادی مطالبات، مہنگائی اور عوامی خدمات کے معیار سے نمٹنے میں ناکام رہے ہیں۔
اس کی اہمیت کیوں ہے
پاکستان سے بین الاقوامی حالات پر نظر رکھنے والے ناظرین اور عام قاری کے لیے، بڑی یورپی معیشتوں میں بڑے پیمانے پر عوامی بے چینی اس بات کو اجاگر کرتی ہے کہ مہنگائی، مہنگی زندگی کے بوجھ اور عوامی خدمات کی فراہمی سے نبردآما ہونا پوری دنیا کے لیے ایک یکساں چیلنج ہے۔ یہ واقعات اس نازک توازن کو بھی نمایاں کرتے ہیں جو حکومتوں کو عوامی تحفظ کو یقینی بنانے، شہریوں کے معاشی تحفظات کو دور کرنے اور بڑے پیمانے پر عوامی مظاہروں کو سنبھالنے کے لیے برقرار رکھنا پڑتا ہے۔
آگے کیا ہوگا
بی بی سی نیوز کے مطابق، وزیراعظم سبسٹین لیکورنو پیر کو ویک اینڈ پر ہونے والے تشدد کا جائزہ لینے کے لیے ہنگامی کابینہ کا اجلاس کر رہے ہیں، جبکہ آئندہ چند ہفتوں کے دوران نئے بڑے پیمانے پر مظاہروں کا اعلان بھی کیا جا چکا ہے۔

