فرانس میں ایک بار پھر ملک گیر احتجاج کا نیا طوفان اٹھنے کا خدشہ ہے اور پورا ملک ہائی الرٹ پر ہے۔ بی بی سی نیوز کے مطابق گزشتہ ہفتے کی شدید بدامنی کے بعد دکانیں اور سرکاری عمارتیں تختے لگا کر بند کر دی گئی ہیں جبکہ حکام کو توقع ہے کہ پیرس اور دیگر بڑے شہروں میں لاکھوں مظاہرین سڑکوں پر نکلیں گے۔
وزارتِ داخلہ نے سکیورٹی مزید سخت کرنے کے لیے 70 ہزار پولیس اہلکار تعینات کرنے کا اعلان کیا ہے۔ بی بی سی نیوز کی رپورٹ کے مطابق یہ قدم اس تنقید کے بعد اٹھایا گیا ہے کہ حکومت 17 اکتوبر کے پہلے مظاہروں کے پیمانے کا اندازہ لگانے میں ناکام رہی تھی۔ وزارتِ داخلہ کے مطابق حکام انتشار پھیلانے والوں اور پرتشدد کارروائیوں میں ملوث عناصر سے سختی سے نمٹیں گے۔ اس کے علاوہ بی بی سی نیوز کے مطابق حکام کا کہنا ہے کہ سوشل میڈیا پر انتہائی بائیں بازو کے گروہوں کی طرف سے تشدد کی کالیں بھی دی جا رہی ہیں۔
بی بی سی نیوز کی رپورٹ کے مطابق گزشتہ چند روز میں فاسٹ ٹریک عدالتوں نے توڑ پھوڑ، آتش زنی اور لوٹ مار میں ملوث سینکڑوں افراد کو جیل بھیج دیا ہے۔ مظاہروں سے پہلے صدر ایمانوئل میکرون نے جمعہ کو ہائی اسکول کے طلبہ کے نمائندوں سے ملاقات کی۔ بی بی سی نیوز کے مطابق اگرچہ طلبہ نے صدر کے وعدوں کا اعتراف کیا لیکن ان کے نمائندوں کا کہنا تھا کہ تحریک جاری رہنی چاہیے۔
پس منظر
بی بی سی نیوز کے مطابق صدر ایمانوئل میکرون نے ہفتے کے روز صرف تسلیم شدہ ٹریڈ یونینز کے زیرِ اہتمام ہونے والے مظاہروں کی اجازت دی تھی۔ لیون، نیس اور مونٹپلیئر سمیت کئی اہم شہروں میں اجتماعات پر مکمل پابندی عائد کر دی گئی تھی جبکہ دارالحکومت کے بعض حصوں میں جزوی کرفیو بھی نافذ رہا۔ مقامی ضابطوں میں اختلاف کے باوجود منتظمین نے بڑے اور چھوٹے مظاہروں کے منصوبے جاری رکھے۔
پیرس میں حکام نے طلبہ یونین کے ایک مارچ کے لیے ایسا راستہ مقرر کیا جو شہر کے مرکز سے باہر رہتا ہے۔ بی بی سی نیوز کے مطابق اس دوران لوور، اورسے اور پیکاسو جیسے اہم عجائب گھر بھی بند رکھنے کا فیصلہ کیا گیا جبکہ پیرس سینٹ جرمین کا فٹ بال میچ بھی پیر کے روز منتقل کر دیا گیا۔
یہ اہم کیوں ہے
پاکستان کے مبصرین کے لیے بڑے پیمانے پر عوامی مظاہروں اور سول بدامنی سے نمٹنے کے انتظامی چیلنجز اس امر کی عکاسی کرتے ہیں کہ جمہوری معاشروں میں امن و امان کی بحالی اور پُرامن احتجاج کے حق کے درمیان توازن کیسے قائم رکھا جاتا ہے۔ سکیورٹی کی تعیناتی اور عدالتی کارروائیاں ظاہر کرتی ہیں کہ دنیا بھر کی حکومتیں سماجی کشیدگی کے دور میں شہری سلامتی کو کس طرح سنبھالتی ہیں۔

