لاطینی امریکہ کے اہم ملک برازیل میں انتخابی معرکہ تمام ہوا اور ایک بار پھر پرانا چہرہ اقتدار میں آ گیا ہے۔ الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق برازیل کے صدر لوئیز انناسیو لولا دا سلوا نے انتہائی سخت مقابلے کے بعد رن آف الیکشن میں دائیں بازو کے سینیٹر فلاویو بولسونارو کو شکست دے کر اپنی چوتھی غیر مسلسل مدتِ صدارت حاصل کر لی ہے۔

الجزیرہ کے مطابق اگرچہ دونوں امیدواروں نے ووٹنگ کے لیے اضافی وقت کی درخواست کی تھی، لیکن اس کے باوجود سینیٹر بولسونارو نے سپریم کورٹ کے جج کرسٹیانو زانن کی جانب سے دیے گئے دو گھنٹے کے 'ناقابل قبول' اضافے کی بنیاد پر انتخابات کو کالعدم قرار دینے کا مطالبہ کیا ہے۔

انتخابی نتائج سامنے آتے ہی دنیا بھر سے ڈجیٹل پلیٹ فارمز پر ردعمل کا سیلاب امڈ آیا، جس سے عالمی سطح پر پایا جانے والا گہرا سیاسی انتشار کھل کر سامنے آ گیا۔ بائیں بازو اور ترقی پسند شخصیات نے اس نتیجے پر خوشی کا اظہار کیا۔ الجزیرہ کے مطابق، شینبوم نے سماجی رابطے کی سائٹ ایکس پر اپنے پیغام میں مبارکباد دیتے ہوئے لکھا کہ جمہوریت زندہ باد، برازیل کے عوام جیت گئے۔ اسی طرح برنی سینڈرز نے لولا کو ان کی شاندار کامیابی پر مبارکباد دی اور الجزیرہ کے توسط سے کہا کہ برازیل کے اس رہنما نے ہمیشہ مزدوروں اور جمہوریت کا ساتھ دیا ہے۔

دیگر بین الاقوامی شخصیات نے تجارتی اور سفارتی تعلقات کے حوالے سے بھی اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ الجزیرہ کے مطابق، کارنے نے کندا اور برازیل کے تعلقات کو آگے بڑھانے کا سہرا لولا کے سر باندھا اور نئے تجارتی مواقع پیدا کرنے اور ماحول کے تحفظ کی خواہش کا اظہار کیا۔ دریں اثنا، امریکی کانگریس مین رو کھنہ نے الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق ایکس پر لکھا کہ دنیا بھر کے لوگ انتہا پسندی کے خلاف جنگ لڑ رہے ہیں اور صدر ٹرمپ کو برازیل کے انتخابات کے نتائج کا احترام کرنا چاہیے اور انہیں متنازع بنانے سے گریز کرنا چاہیے۔

تمام بین الاقوامی ردعمل اتنے خوش آئند نہیں تھے۔ الجزیرہ نے رپورٹ کیا کہ ڈونلڈ ٹرمپ جونیئر نے ووٹنگ کے وقت میں دو گھنٹے کے اضافے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے اس نتیجے پر تنقید کی اور مین میڈیا کی کوریج میں دوہرے معیار کا الزام عائد کیا۔ اس کے علاوہ، نیویارک کے میئر زہران ممدانی نے بھی ایکس پر پوسٹ کیا کہ متحد عوام کو کبھی شکست نہیں دی جا سکتی۔

الجزیرہ کے مطابق، اس کے علاوہ کیلیفورنیا کے گورنر کے پریس آفس نے جمہوریت کے دفاع، ماحول کے تحفظ اور مزدوروں کے حقوق کیلیے برازیل کے ساتھ کھڑے ہونے پر فخر کا اظہار کیا، جبکہ کیوبا کے رہنما دیاز کانیل نے امن، خودمختاری اور سماجی انصاف کی ضمانت دینے والی اس تاریخی فتح کی تعریف کی۔

پس منظر

الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق، یہ انتخاب لوئیز انناسیو لولا دا سلوا اور دائیں بازو کے سینیٹر فلاویو بولسونارو کے درمیان رن آف پر منتج ہوا۔ اس الیکشن کے بعد سب سے اہم تنازع سپریم کورٹ کے جج کرسٹیانو زانن کی طرف سے دیا جانے والا ووٹنگ کا دو گھنٹے کا اضافہ ہے۔ الجزیرہ نے نوٹ کیا کہ اگرچہ دونوں امیدواروں نے ابتدائی طور پر اضافی وقت کی درخواست کی تھی، تاہم اب یہی توسیع بولسونارو کے انتخابات کو کالعدم قرار دینے کے مطالبے اور ڈونلڈ ٹرمپ جونیئر جیسے ناقدین کے لیے نکتہ چینی کی بنیاد بن گئی ہے۔

اس کی اہمیت کیا ہے

عالمی سطح پر انتخابی نتائج اکثر و بیشتر ادارہ جاتی سالمیت، انتخابی عمل میں عدلیہ کی مداخلت اور سیاسی نظریات کے تضاد سے جڑے وسیع تر مباحث کی عکاسی کرتے ہیں۔ مبصرین اس بات پر گہری نظر رکھتے ہیں کہ مختلف ممالک ووٹنگ کے طریقہ کار سے متعلق تنازعات کو کیسے حل کرتے ہیں اور غیر ملکی حکومتیں اقتدار کی تبدیلی پر کیسا ردعمل ظاہر کرتی ہیں، جو جمہوریت اور حکمرانی سے متعلق عالمی سوالات کو جنم دیتا ہے۔