سٹیفن مویتی جوزف کا گھر آج کل ایک گہری اور دل دہلا دینے والی خاموشی کی لپیٹ میں ہے، کیونکہ ان کی اہلیہ مبینہ طور پر ان کے تمام چھ بچوں کو بہلا پھسلا کر کینیا کے گہرے شکا ہولا جنگل میں ایک خود ساختہ مذہبی پیشوا کے پاس لے گئی تھیں۔ الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق، اس دل شکستہ باپ کا اب یہی مطالبہ ہے کہ اس تباہ کن سانحے کے ذمہ دار پادری پال مکینزی کو عمر بھر کے لیے سلاخوں کے پیچھے ڈال دیا جائے۔

الجزیرہ کے مطابق، ایک عدالت نے پال مکینزی کو 191 افراد کے قتل کے جرم میں سزا سنائی ہے۔ اس فرقے کے پیروکاروں کو مبینہ طور پر شدید بھوک برداشت کرنے پر مجبور کیا گیا تاکہ وہ حضرت عیسیٰ سے ملاقات کر سکیں، جو کہ حالیہ دور میں انتہا پسند گروہوں سے جڑے جانی نقصان کے ہولناک ترین واقعات میں سے ایک ہے۔

پس منظر

الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق یہ المناک واقعہ کینیا کے شکا ہولا جنگل میں پیش آیا، جہاں خود ساختہ پادری پال مکینزی نے لوگوں کو گمراہ کیا۔ اس فرقے کے طریقۂ کار میں پیروکاروں، بشمول بچوں کو، شدید بھوک کی بھٹی میں جھونکنا شامل تھا تاکہ انہیں یقین دلایا جا سکے کہ اس سے ان کی ملاقات حضرت عیسیٰ سے ہو جائے گی۔ اس واقعے کی تحقیقات اور عدالتی فیصلوں نے مذہب کا نام استعمال کرنے والے انتہا پسند گروہوں کے خطرات کو دنیا بھر کے سامنے لا کھڑا کیا ہے۔

یہ واقعہ کیوں اہم ہے؟

عام قارئین کے لیے، فریب دینے والی شخصیات پر اندھا اعتماد کرنے کے نقصانات ایک تلخ یاد دہانی کی حیثیت رکھتے ہیں جو اس بات کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہیں کہ معاشرتی نگرانی کتنی ضروری ہے اور کمزور افراد کو شدید ذہنی استحصال سے بچانے کے لیے کس قدر ہوشیاری کی ضرورت ہے۔