ایتھوپیا کے ٹگرے کے خطے میں دوبارہ بھڑکنے والی لڑائی نے ایک بار پھر پورے قرنِ افریقہ کو غیر یقینی صورتحال سے دوچار کر دیا ہے۔ الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق اس بحران کے دوران متحدہ عرب امارات کی طرف سے وفاقی حکومت کی حمایت اور سعودی عرب کی علاقائی سفارتی کوششوں پر عالمی سطح پر گہری نظر رکھی جا رہی ہے۔

خطے میں دونوں خلیجی طاقتوں کے اسٹریٹجک مفادات موجود ہیں مگر ان کے لائحہ عمل مختلف ہیں۔ الجزیرہ کے مطابق جہاں متحدہ عرب امارات نے کھلے عام ایتھوپیا کی مرکزی حکومت کا ساتھ دیا ہے، وہیں سعودی عرب اس سے پہلے ایتھوپیا اور اریٹیریا کے درمیان تعلقات بحل کرانے میں مدد کر چکا ہے اور اطلاعات کے مطابق 2025 میں دونوں ممالک کے درمیان ثالثی کی پیشکش بھی کی تھی۔

پس منظر

الجزیرہ کے مطابق تازہ لڑائی سے نومبر 2022 کے پٹوریا امن معاہدے کے خاتمے کا خطرہ پیدا ہو گیا ہے، جو ایتھوپیا کی وفاقی حکومت اور ٹگرے کی فورسز کے درمیان جنگ ختم کرنے کے لیے طے پایا تھا۔ دوسری طرف اریٹیریا کے ساتھ بڑھتی ہوئی کشیدگی نے اس بحران کو مزید وسیع تصادم میں بدلنے کے خدشات بڑھا دیے ہیں، جس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ اس تنازع میں بیرونی طاقتوں کے کیا مفادات ہیں۔

الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق 25 ستمبر کو متحدہ عرب امارات نے ٹگرے پیپلز لبریشن فرنٹ اور اس کے اتحادی مسلح گروہوں کی طرف سے وفاقی فورسز پر حملوں، ٹگرے کے ہوائی اڈوں پر قبضے اور قریبیعلاقوں عفار اور امہرا میں کشیدگی بڑھانے کی شدید مذمت کی تھی۔ اماراتی وزیرِ مملکت شیخ شخبوط بن نھیان آل نھیان نے ایتھوپیا کی حکومت اور عوام سے یکجہتی کا اظہار کیا، ملک کی سالمیت کی حمایت کی اور دشمنی ختم کرنے، شہریوں کے تحفظ اور پٹوریا معاہدے پر عمل درآمد کا مطالبہ کیا۔

اس کے علاوہ متحدہ عرب امارات کے قرنِ افریقہ میں تجارتی مفادات بھی ہیں۔ الجزیرہ کے مطابق دبئی پورٹس ورلڈ صومالی لینڈ میں بربرہ پورٹ کو چلا رہی ہے، اور 2025 میں شروع ہونے والا ایک بحری راستہ اس بندرگاہ کو امارات کی جبل علی بندرگاہ سے ملاتا ہے، جس سے ایتھوپیا جیسے خشکی میں گھرے ملک کے لیے تجارت کا ایک اور راستہ کھل گیا ہے۔ اریٹیریا کی 1993 میں آزادی کے بعد سے خشکی میں محصور ایتھوپیا بین الاقوامی تجارت کے لیے زیادہ تر جبوتی پر انحصار کرتا ہے۔

یہ صورتحال کیوں اہم ہے؟

بین الاقوامی برادری اور مبصرین کے نزدیک قرنِ افریقہ کی یہ پیشرفت اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ کس طرح تجارتی روابط، سفارتی کوششیں اور بیرونی طاقتوں کے مفادات تنازعات کا شکار علاقوں میں اثر انداز ہوتے ہیں۔ الجزیرہ کے مطابق تجارتی تعلقات سے یہ سمجھنے میں مدد ملتی ہے کہ ابوظہبی کی خطے کے استحکام میں کیا دلچسپی ہے اور ادیس ابابا کے ساتھ اس کے تعلقات کیوں اہم ہیں،تاہم یہ بات ابھی تک زیرِ بحث ہے کہ بیرونی ممالک عسکری فیصلوں پر کتنا اثر رسوخ رکھتے ہیں۔