تعزیت کے لیے جمع ہونے والے سوگواران کا ایک پرسکون اجتماع اس وقت اچانک گولیاں چلنے اور بھگدڑ کا شکار بن گیا جب وہاں موت اور کہرام مچ گیا۔ بی بی سی نیوز کے مطابق یہ دلخراش واقعہ جمعہ کے روز اردن کے صوبہ کرک میں پیش آیا، جہاں ایک کلیسا میں جنازے کی تقریب میں شرکت کے لیے 150 سے 200 کے قریب افراد موجود تھے۔
بی بی سی نیوز کی جانب سے حکومتی ترجمان کے حوالے سے بتایا گیا کہ نامعلوم حملہ آور ایک کار پر سوار ہو کر آئے، کلیسا کے اندر داخل ہوئے اور اندھا دھند فائرنگ شروع کرنے کے بعد موقع سے فرار ہو گئے۔ حکومت کے ترجمان محمد المومنی نے اس واقعے کو ایک قبیح حملہ قرار دیا اور کہا کہ سیکیورٹی فورسز کو فوری طور پر علاقے میں روانہ کر دیا گیا ہے۔
اس ہولناک واقعے کی تفصیلات بیان کرتے ہوئے ایک سوگوار خالد برقان نے اردن کے سرکاری ٹی وی 'المملاکہ' کو بتایا کہ رائفل اور پستول سے مسلح دو حملہ آوروں نے مسلسل کئی منٹ تک سوگواروں پر فائرنگ کی۔ بی بی سی نیوز کی طرف سے جن فوٹیجز کا حوالہ دیا گیا ہے، ان میں المناک مناظر دیکھے جا سکتے ہیں جہاں کئی لاشیں اور زخمی زمین پر موجود تھے۔ واقعے کے فورا بعد وزارت داخلہ کی جانب سے ایک پریس بریفنگ متوقع تھی۔
پس منظر
بی بی سی نیوز کے مطابق کرک کے اس صوبے میں مسلم اکثریتی ملک اردن کے اندر ایک قابل ذکر مسیحی آبادی آباد ہے۔ رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ اگرچہ اردن میں اس قسم کے پرتشدد واقعات شاذ و نادر ہی ہوتے ہیں، تاہم ماضی میں بھی ملک کے اندر ایسے ہلاکت خیز حملے کیے جا چکے ہیں۔
اس واقعے کی اہمیت
پاکستان اور وسیع تر خطے کے قارئین کے لیے، اجتماعات کے دوران اچانک ہونے والے تشدد کے یہ واقعات عبادت گاہوں پر سیکیورٹی اور عوامی تحفظ کے حوالے سے دنیا بھر میں موجود مسلسل چیلنجوں کو اجاگر کرتے ہیں۔ جیسا کہ بین الاقوامی خبر رساں ادارے بیرون ملک اقلیتی برادریوں کو پیش آنے والے سانحات کی اطلاع دیتے ہیں، یہ واقعہ اس تلخ حقیقت کی یاد دہانی کراتا ہے کہ دنیا بھر میں عام شہریوں کے اجتماعات اچانک ہونے والے تشدد کے خلاف کتنے غیر محفوظ ہیں۔

