جب پوائنٹس ٹیبل پر سب سے نیچے موجود لی ہاور نے میچ کے آغاز میں ہی برتری حاصل کی تو اسٹیڈیم میں ایک بڑے الٹ پھیر کی فضا بن گئی تھی، لیکن پیرس سینٹ جرمین نے اس غبار کو زیادہ دیر ٹکنے نہیں دیا۔ الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق، ٹیم کے دفاعی کھلاڑی اشرف حکیمی نے شاندار کھیل کا مظاہرہ کرتے ہوئے تین گول کیے اور دو گول کرنے میں مدد دی، جس کی بدولت یورپی چمپئن ٹیم نے 1-5 سے میدان مار لیا۔
رائیٹرز کے مطابق، پی ایس جی کے کوچ لوئس انریکی کو کھلاڑیوں کے زخمی ہونے کی وجہ سے تبدیلیوں کا سامنا تھا، لیکن اس کے باوجود وہ ٹیم کو فتح دلانے میں کامیاب رہے۔ اس کامیابی کے ساتھ ہی پی ایس جی نے اپنے پہلے 9 میچوں میں 20 پوائنٹس حاصل کر لیے ہیں اور وہ دوسرے نمبر پر موجود لیل سے 2 پوائنٹس کی برتری کے ساتھ سرفہرست ہیں۔
میچ کے آغاز میں لی ہاور کے جوش ماجا نے گول کر کے اپنی ٹیم کو آگے کر دیا تھا، لیکن اس کے بعد اشرف حکیمی نے کھیل کا رخ موڑ دیا۔ الجزیرہ کے مطابق، حکیمی نے 28 ویں منٹ میں میکا گوڈٹس کو گول کرنے میں مدد دی، پھر 55 ویں منٹ میں فری کک پر شاندار گول کیا اور 69 ویں منٹ میں ایک اور گول کر کے اپنی ہیٹ ٹرک مکمل کی۔ رائیٹرز کے مطابق، 62 ویں منٹ میں سینی مایولو کا چوتھا گول بھی اسی جوابی حملے کا نتیجہ تھا جس کی بنیاد حکیمی نے رکھی تھی۔
لیگ کے دیگر میچوں میں، الجزیرہ نے بتایا کہ لیل نے آخری لمحات میں اولیویر جیرو کے 86 ویں منٹ کے گول کی بدولت لانس کو 0-1 سے شکست دے کر دوسری پوزیشن حاصل کر لی۔ ادھر نیس نے رینس کو 2-5 سے شکست دی جہاں ایلی واہی نے بھی ہیٹ ٹرک اسکور کی، جس سے نیس کی ٹیم ساتویں نمبر پر آ گئی۔
پس منظر
الجزیرہ اور رائیٹرز کے مطابق، پیرس سینٹ جرمین نے موجودہ یورپی چمپئن کی حیثیت سے میدان میں قدم رکھا اور 9 میچوں میں 20 پوائنٹس کے ساتھ سرفہرست ہے۔ لی ہاور کو مسلسل پانچویں شکست کا سامنا کرنا پڑا اور وہ صرف 2 پوائنٹس کے ساتھ آخری نمبر پر موجود ہے۔ اس میچ میں پی ایس جی کی بینچ اسٹرینتھ کا اندازہ ہوتا ہے، جس پر کوچ لوئس انریکی نے رائیٹرز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ میں خوش ہوں کیونکہ کچھ کھلاڑیوں کو بہت کم کھیلنے کا موقع ملا تھا، اور اگر ہم ٹرافیاں جیتنا چاہتے ہیں تو ہمیں سب کی ضرورت ہے۔
یہ کیوں اہم ہے
بین الاقوامی کھیلوں کے شائقین کے لیے یہ میچ اس حکمت عملی اور مضبوطی کو ظاہر کرتا ہے جو بڑی ٹیموں کو انجریز کے باوجود مختلف محاذوں پر درکار ہوتی ہے۔ اگرچہ یہ مقابلے پاکستان سے دور ہوتے ہیں، لیکن یورپی فٹ بال لیگز کے مداح یہاں بھی بڑی تعداد میں موجود ہیں جو بین الاقوامی کلب مقابلوں اور کھلاڑیوں کی کارکردگی پر گہری نظر رکھتے ہیں۔

