ماسکو کے آسمان پر ایک بار پھر جنگی بادل گرجے اور رات کی تاریکی میں سینکڑوں ڈرونز نے روسی دارالحکومت کو نشانہ بنانے کی کوشش کی۔ الجزیرہ اور رروئٹرزٹرز کی رپورٹس کے مطابق روسی سرکاری خبر رساں ادارے ٹاس (TASS) نے بتایا ہے کہ بدھ کی شام سے جمعرات کی صبح تک کے درمیانی عرصے میں 600 سے زائد ڈرونز ماسکو کی جانب روانہ کیے گئے۔ روسی فضائی دفاعی فورسز نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے دارالحکومت کی طرف بڑھنے والے بیشتر ڈرونز کو فضا میں ہی ناکارہ بنا دیا۔

ماسکو کے میئر سرگے سوبیانن نے اپنے ٹیلی گرام بیان میں تصدیق کی کہ فضائی دفاعی یونٹس نے شہر کے قریب پہنچنے والے 231 بغیر پائلٹ کے طیاروں (یو اے وی) کو کامیابی سے تباہ کیا، جبکہ باقی ڈرونز کو ماسکو سے کافی دور ہی تباہ کر دیا گیا۔

اس دوران تنازع کے دوسری طرف یوکرین کے حکام نے بھی فضائی حملوں کا سلسلہ جاری رہنے کی اطلاع دی۔ خارکیف کے میئر ایغور تیرہوف نے ٹیلی گرام پر بتایا کہ روسی حملوں نے یوکرین کے دوسرے بڑے شہر خارکیف میں ایک اہم تعلیمی ادارے کو نقصان پہنچایا ہے۔

پس منظر

الجزیرہ کے مطابق، حالیہ کشیدگی ستمبر میں ہونے والے اس ریکارڈ ڈرون حملے کے بعد سامنے آئی ہے جس میں روسی فضائی دفاعی فورسز نے ماسکو کے علاقے کو نشانہ بنانے والے 1600 سے زیادہ ڈرونز مار گرانے کا دعویٰ کیا تھا۔ روس اور یوکرین کے درمیان جاری اس تنازع میں بڑے پیمانے پر فضائی حملے معمول بن چکے ہیں۔

یہ کیوں اہم ہے

بین الاقوامی سطح پر فضائی جنگ میں اس طرح کے شدید اضافے دنیا بھر میں تنازعات کے علاقوں کی غیر یقینی صورتحال اور عام شہریوں کے بنیادی ڈھانچے کو لاحق خطرات کو ظاہر کرتے ہیں۔ مشرقی یورپ میں جاری ان عسکری سرگرمیوں سے عالمی سفارتی تعلقات اور توانائی کی منڈیوں پر اثرات مرتب ہو رہے ہیں، اگرچہ جنوبی ایشیا میں اس کے براہ راست اثرات محسوس نہیں کیے جا رہے۔