ملکی معیشت اس وقت ایک ایسے نازک موڑ پر ہے جہاں مالیاتی اداروں کی طرف سے ریاستی امور اور ٹیکس وصولی کے نظام میں بنیادی تبدیلیوں پر زور دیا جا رہا ہے۔ بزنس ریکارڈر کی رپورٹ کے مطابق، بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) نے پاکستان سے کہا ہے کہ وہ ڈھانچہ جاتی اصلاحات کو تیز کرے، ٹیکس نیٹ کو پھیلائے اور وسائل کی منصفانہ تقسیم کو یقینی بنائے۔
پاکستان میں آئی ایم ایف کے ریزیڈنٹ نمائندے ڈاکٹر ماہر بینیچی نے پائیدار ترقی کے پالیسی انسٹی ٹیوٹ کے زیراہتمام منعقدہ کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے بتایا کہ ملک کو اس وقت معاشی استحکام سے آگے بڑھ کر حقیقی معاشی تبدیلی کی طرف قدم بڑھانے کی ضرورت ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ مجموعی قومی پیداوار (جی ڈی پی) کے مقابلے میں ٹیکس کی کم شرح اور زراعت، رئیل اسٹیٹ اور صوبائی خدمات کے شعبوں میں موجود غیر استعمال شدہ مالیاتی صلاحیت کی وجہ سے فلاحی کاموں اور عوامی خدمات کے لیے فنڈز کی فراہمی میں مشکلات پیش آ رہی ہیں۔
پس منظر
بزنس ریکارڈر کے مطابق، ان مباحثوں نے ملک میں ٹیکس کے محدود دائرے کے دیرینہ مسائل کو پھر سے اجاگر کر دیا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ زراعت اور رئیل اسٹیٹ سمیت کئی شعبے اب بھی مکمل طور پر ٹیکس کے دائرے میں نہیں آئے۔ عالمی ادارے نے اس بات پر بھی زور دیا ہے کہ ملکی اور بین الاقوامی معاشی حالات کے پیش نظر اصلاحات پر عمل درآمد کی رفتار تیز کرنا انتہائی ضروری ہے، بصورت دیگر یہ موقع ہاتھ سے نکل سکتا ہے۔
اس کا عام آدمی پر اثر
ٹیکس کا دائرہ وسیع کرنے اور اداروں کو مضبوط بنانے کے اس عمل کا براہ راست تعلق اس بات سے ہے کہ عام شہریوں کے لیے ترقیاتی کاموں اور بنیادی سہولتوں کی فنڈنگ کیسے کی جاتی ہے۔ ذرائع کے مطابق، طویل مدت میں معاشی استحکام کے فوائد حاصل کرنے کے لیے یہ بنیادی شرط ہے کہ کمزور طبقات کو تحفظ فراہم کیا جائے اور اصلاحات کا بوجھ تمام شہریوں پر منصفانہ انداز میں ڈالا جائے۔
