جب قومی تجوریاں خالی ہوں اور عوام کی بنیادی ضروریات منہ کھولے کھڑی ہوں، تو معاشی اعداد و شمار ایک خاموش بحران کی کہانی سنانے لگتے ہیں۔ بزنس ریکارڈر کی رپورٹ کے مطابق، عالمی بینک کے جاری کردہ اعداد و شمار سے پتا چلتا ہے کہ 2025ء کے دوران کم اور متوسط آمدنی والے ملکوں کے بیرونی قرضوں میں 5.5 فیصد اضافہ ہوا، جس کے بعد یہ حجم ریکارڈ 9.4 ٹریلین ڈالر تک جاپہنچا۔ کورونا وبا کے بعد سال 2021ء کے بعد سے یہ کسی ایک سال میں ہونے والا سب سے بڑا اضافہ ہے۔

رپورٹ کے مطابق نجی قرض خواہوں سے مہنگے داموں قرض لینے کا سلسلہ 2026ء میں بھی جاری رہا۔ عالمی بینک نے اس صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے سوال اٹھایا ہے کہ کیا اس مالیاتی لائحہ عمل سے قرضوں کا بوجھ پائیدار ہے اور کیا اس سرمائے کا اصل فائدہ نچلے طبقے تک پہنچ بھی رہا ہے یا نہیں۔ رپورٹ کے مطابق غریب ترین ترقی پذیر ممالک کو نجی قرض خواہوں کی طرف سے نئے قرضوں پر اوسطاً 8.2 فیصد شرح سود برداشت کرنا پڑی جو کہ 1989ء کے بعد سے اب تک کی بلند ترین سطح ہے۔ اس کے علاوہ نئے بانڈز پر سود کی یہ شرح 9.4 فیصد تک ریکارڈ کی گئی۔ اس کے مقابلے میں وہ ممالک جو عالمی ترقیاتی ادارے کے کم یا صفر سود والے قرضوں کے اہل نہیں ہیں، انہیں نئے بانڈز پر اوسطاً 5.5 فیصد سود دینا پڑا۔

پس منظر

بین الاقوامی مالیاتی اداروں کی جانب سے حالیہ مہینوں میں دنیا بھر میں بڑھتے ہوئے قرضوں پر لگاتار خطرے کی گھنٹیاں بجائی جا رہی ہیں۔ عالمی بینک کا کہنا ہے کہ بیرونی واجبات میں تیزی سے اضافہ اور بلند شرح سود نے ترقی پذیر معیشتوں کے لیے مشکلات کے پہاڑ کھڑے کر دیے ہیں۔ ادارے نے تسلیم کیا ہے کہ اگرچہ بین الاقوامی منڈیوں سے قرضوں کا حصول اب قدرے آسان ہوا ہے، لیکن اس کے اخراجات آج بھی غریب ترین ملکوں کے لیے سب سے زیادہ نقصان دہ ہیں۔

یہ صورتحال کیوں اہم ہے؟

پاکستان سمیت تمام ترقی پذیر ملکوں کے عام شہریوں کے لیے بیرونی قرضوں میں اس ہوشربا اضافے اور مہنگے سود کے براہ راست اثرات ہیں۔ عالمی بینک کی جانب سے واضح کیا گیا ہے کہ مالیاتی ذمہ داریوں کا یہ بھاری بوجھ صحت، تعلیم، انفراسٹرکچر اور روزگار کے مواقع جیسے اہم شعبوں کے لیے فنڈز کی راہ میں بڑی رکاوٹ بن رہا ہے، جس سے عام لوگوں کی فلاح و بہبود کے لیے وسائل شدید متاثر ہو رہے ہیں۔