ملکی طبی ماہرین کے لیے دنیا بھر میں روزگار کے دروازے کھولنے اور ادویات کے شعبے میں خود کفالت حاصل کرنے کی کوششیں دارالحکومت میں تیز ہو گئی ہیں۔ بزنس ریکارڈر کی رپورٹ کے مطابق نائب وزیر اعظم اور وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار کی زیر صدارت ایک اعلیٰ سطحی اجلاس منعقد ہوا، جس میں پاکستانی ڈاکٹروں اور ڈینٹسٹ حضرات کی بین الاقوامی طبی اداروں میں تقرری اور مقامی سطح پر ویکسین کی تیاری کے لائحہ عمل کا جائزہ لیا گیا۔

رپورٹ کے مطابق اس بیٹھک کا بنیادی مقصد پاکستانی طبی عملے کو بیرون ملک ملازمتوں کے حصول میں مدد دینا اور دوست ممالک کے تعاون سے ٹیکنالوجی کی منتقلی کے ذریعے ملک کے اندر ہی ویکسین کی تیاری کے قانونی اور تکنیکی مراحل کو طے کرنا تھا۔

نائب وزیر اعظم محمد اسحاق ڈار کا کہنا تھا کہ یہ دونوں اقدامات پاکستانی ڈاکٹروں کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں کو عالمی سطح پر روشناس کرانے کے لیے انتہائی اہم ہیں۔ بزنس ریکارڈر کے مطابق انہوں نے زور دیا کہ بیرون ملک جانے والے ڈاکٹروں کے لیے ایک شفاف اور مربوط انتظامی ڈھانچہ تشکیل دیا جائے تاکہ انہیں عالمی سطح پر کیریئر کے بہتر مواقع مل سکیں، اور ساتھ ہی مقامی فارماسیوٹیکل صنعت کے لائسنسنگ اور تیاری کے عمل کو بھی تیز کیا جائے۔

اہم شخصیات کی شرکت

بزنس ریکارڈر کے مطابق اس مشاورتی اجلاس میں وفاقی وزیر برائے قومی صحت، وزیر اعظم کے معاون خصوصی طارق باجوہ، سیکرٹری صحت، پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل (پی ایم ڈی سی) کے صدر اور وزارت کے دیگر اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔

اس فیصلے کی اہمیت

عام شہریوں اور طبی شعبے سے وابستہ افراد کے لیے یہ پالیسی فیصلے بیرون ملک باقاعدہ روزگار کے حصول اور ملک کے اندر صحت کے بنیادی ڈھانچے کو مضبوط بنانے کی نوید ہیں۔ بین الاقوامی سطح پر روزگار کے راستے آسان ہونے سے مقامی ڈاکٹروں کے مستقبل کے دروازے کھلیں گے، جبکہ ملک میں ویکسین کی تیاری سے عوامی صحت کی سحری اور طبی سامان میں خود کفالت کی منزل قریب آئے گیین۔