جب ایوانِ قانون سازی اور فیکٹری کے شور میں توازن پیدا کرنے کی بات ہو تو پالیسی سازوں اور تاجروں کا آمنے سامنے بیٹھنا ناگزیر ہو جاتا ہے۔ بزنس ریکارڈر کی رپورٹ کے مطابق، چیئرمین سینیٹ سید یوسف رضا گیلانی نے لاہور چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری (LCCI) کے دورے میں اس خلیج کو مٹانے کا عزم ظاہر کیا اور متعلقہ سینیٹ کی قائمہ کمیٹیوں کے دروازے تجارتی نمائندوں کے لیے کھولنے کا وعدہ کیا۔

بزنس ریکارڈر کے مطابق، سید یوسف رضا گیلانی کا کہنا تھا کہ کاروبار سے وابستہ افراد کو مالیاتی، اقتصادی، تجارت اور صنعت سے متعلق کمیٹیوں میں اپنی تجاویز پیش کرنے کا براہ راست فورم فراہم کیا جائے گا۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ موثر معاشی پالیسی سازی کا انحصار براہ راست زمینی حقائق کا سامنا کرنے والوں سے بامقصد رابطے پر ہے۔

لاہور چیمبر میں ہونے والی اس ملاقات کے دوران کاروباری طبقے کو درپیش مسائل کھل کر سامنے آئے۔ بزنس ریکارڈر کی رپورٹ کے مطابق، چیئرمین سینیٹ نے ٹیکسوں کے بوجھ، قواعد و ضوابط کی پیچیدگیوں، پالیسیوں کے تسلسل کی کمی اور بڑھتے ہوئے اخراجات کو جائز شکایات تسلیم کیا۔ انہوں نے لاہور کے اس تاریخی تجارتی مرکز کی طرف سے روزگار کی فراہمی، صنعتی ترقی اور قومی خوشحالی میں ادا کیے جانے والے کردار کی تعریف بھی کی۔

پس منظر

بزنس ریکارڈر کی رپورٹ کے مطابق، اس بات چیت کا محور تجارتی رکاوٹوں کو دور کرنے میں پارلیمانی اداروں کا کلیدی کردار تھا۔ سید یوسف رضا گیلانی نے اس بات کو اجاگر کیا کہ ایوانِ بالا (سینیٹ) وفاق کی علامت کے طور پر کام کرتا ہے، جو قانون سازی کی نگرانی اور پالیسی سازوں اور نجی شعبے کے درمیان تعمیری بات چیت کا ادارہ جاتی نظام فراہم کرتا ہے۔ انہوں نے تاجر رہنماؤں کو یقین دلایا کہ سینیٹ ایسا ماحول بنانے کی حوصلہ افزائی کرے گا جو کاروباری مفادات کا تحفظ کرے اور معاشی ترجیحات کو سہارا دے۔

اس کی اہمیت کیوں ہے

پاکستان کے عام شہریوں اور محنت کشوں کے لیے، کاروبار کرنے کی لاگت براہ راست نوکریوں کے تحفظ، مہنگائی اور اشیائے ضروریہ کی دستیابی پر اثر انداز ہوتی ہے۔ جب تجارتی اور صنعتی شراکت داروں کی مشاورت سے پالیسیاں بنائی جائیں تو اس سے ضابطے زیادہ مستحکم ہوتے ہیں، مارکیٹ میں اچانک آنے والے بحران کم ہوتے ہیں اور مہنگائی کے ستائے گھرانوں کے لیے معاشی صورتحال زیادہ قابلِ پیشگوئی بن جاتی ہے۔

آگے کیا ہوگا

بزنس ریکارڈر کے مطابق، سید یوسف رضا گیلانی نے لاہور چیمبر کی قیادت پر زور دیا کہ وہ پارلیمانی اداروں کے ساتھ اپنا رابطہ مسلسل جاری رکھیں اور مستقبل کے قانونی ڈھانچے کو تشکیل دینے کے لیے اپنے عملی تجربے سے فائدہ اٹھائیں۔