نئی دہلی کے تاریخی رام لیلا میدان میں اس وقت ایک بڑا عوامی اجتماع دیکھنے میں آیا جب اہم اپوزیشن جماعت کانگریس کی قیادت میں ہزاروں افراد نے الیکشن کمشنر کے استعفیٰ کے حق میں مظاہرہ کیا۔ بی بی سی نیوز کے مطابق اس احتجاجی مظاہرے میں شرکت کرنے والوں کی تعداد ہزاروں میں بتائی گئی جبکہ پارٹی رہنماؤں کا دعویٰ تھا کہ یہ تعداد لاکھوں تک پہنچ سکتی ہے۔

اس احتجاج میں کانگریس کی زیرِ قیادت انڈیا الائنس کے کئی سرفہرست رہنماؤں کے علاوہ نوجوانوں کے گروپ کاک روچ جنتا پارٹی نے بھی شرکت کی اور اپنی حمایت کا اعلان کیا۔ بی بی سی نیوز کے مطابق، اجتماع سے قبل اپوزیشن رہنما راہول گاندھی نے عوام سے بڑی تعداد میں شرکت کی اپیل کرتے ہوئے اس تحریک کو آئین اور بھارتی جمہوریت کا دفاع قرار دیا۔

پس منظر

بی بی سی نیوز کی رپورٹ کے مطابق، موجودہ تنازع کی بنیادی وجہ ووٹر لسٹوں کی نظرثانی کا وہ عمل ہے جسے اسپیشل انٹینسو ریویژن (ایس آئی آر) کا نام دیا گیا ہے، جس کے تحت پورے بھارت میں مسودہ فہرستوں سے 130 ملین نام خارج کیے جا چکے ہیں۔ الیکشن کمیشن آف انڈیا کا مؤقف ہے کہ اس مہم کا مقصد فوت شدہ یا نقل مکانی کرنے والے افراد کے نام نکال کر فہرستوں کو اپ ڈیٹ کرنا ہے، تاہم اپوزیشن جماعتوں کا الزام ہے کہ اس عمل سے اہل ووٹرز کو حقِ رائے دہی سے محروم کر کے وزیر اعظم نریندر مودی کی بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کو فائدہ پہنچایا جا سکتا ہے۔ بی جے پی اور الیکشن کمیشن دونوں نے ووٹ چوری کے ان الزامات کی تردید کی ہے۔

ستمبر کے مہینے میں دی انڈین ایکسپریس کی ایک تحقیقاتی رپورٹ کے حوالے سے بی بی سی نیوز نے بتایا کہ چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار نے اہم فیصلے دیگر دو الیکشن کمشنرز کی رضامندی کے بغیر کیے، جنہوں نے ایک درجن سے زائد مواقع پر اپنے تحفظات کا اظہار کیا تھا۔ دوسری جانب الیکشن کمیشن نے جواب دیا ہے کہ آراء کا اختلاف ایک معمولی اور فطری عمل ہے جس سے اداروں کے کام کرنے کے طریقہ کار پر کوئی اثر نہیں پڑتا۔

سرکاری تردید کے باوجود ووٹر لسٹوں میں ہونے والی اس نظرثانی پر احتجاج کا سلسلہ جاری ہے۔ بی بی سی نیوز کے مطابق گزشتہ ماہ راہول گاندھی کی قیادت میں ہزاروں مظاہرین نے کناٹ پلیس سے سپریم کورٹ تک مارچ کیا تھا۔ منتظمین نے اس مارچ کو ایک ٹریلر قرار دیتے ہوئے اتوار کے روز ہونے والے جلسے کے اس سے کہیں زیادہ بڑا ہونے کی توقع ظاہر کی تھی۔

اس کی اہمیت کیوں ہے

خطے کے قارئین کے لیے، انتخابی شفافیت اور ووٹر لسٹوں کے انتظامات پر جاری تنازعات جمہوری اداروں کے ارد گرد جاری قانونی اور سیاسی بحث کو نمایاں کرتے ہیں۔ جس طرح سے انتخابی ادارے ووٹروں کی رجسٹریشن اور مسودے کی نظرثانی کے امور کو سنبھالتے ہیں، اس سے انتظامی عمل پر عوامی نظرثانی معاصر سیاست کا ایک مرکزی موضوع بنی ہوئی ہے۔