خطے میں جاری کشیدگی کے درمیان سفارتی سرگرمیاں عروج پر ہیں اور اسی سلسلے میں تہران کے اعلیٰ سطحی نمائندے نے ماسکو کا دورہ کیا ہے۔ روئٹرز اور الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق، ایران کی سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے سیکرٹری محسن رضائی نے روسی صدر ولادیمیر پیوٹن سے ملاقات کی اور انہیں ایران کے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کا تحریری پیغام پہنچایا۔

ملاقات کے دوران دونوں رہنماؤں نے خطے کے سکیورٹی ڈھانچے، جنگ کے بعد کے حالات اور توانائی کے شعبے میں تعاون بڑھانے کے امور پر تبادلہ خیال کیا۔ خبر رساں اداروں کے مطابق اس موقع پر روس سے ایران تک گیس پائپ لائنز کی تعمیر کے تجاویز پر بھی غور کیا گیا۔

پس منظر

الجزیرہ اور روئٹرز نے بتایا ہے کہ یہ سفارتی بیٹھک ایسے وقت میں ہو رہی ہے جب قطر کی ثالثی میں امریکہ، اسرائیل اور ایران کے درمیان جاری جنگ کے خاتمے کی کوششیں بھی جاری ہیں۔ اس تنازع کی وجہ سے آبنائے ہرمز میں جہاز رانی شدید متاثر ہوئی ہے، جبکہ امریکی پابندیوں، بندرگاہوں کی ناکہ بندی اور جوہری پروگرام پر کشیدگی برقرار ہے۔ دوسری جانب امریکی سیاست میں بھی اس جنگ کے اثرات نظر آئے جہاں وسطی مدت کے انتخابات میں حکمران جماعت کو مہنگائی اور عوامی بے چینی کے باعث دونوں ایوانوں میں شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ تہران کا موقف ہے کہ جب تک واشنگٹن اس کی سات شرائط پوری نہیں کرتا، وہ نہ تو امریکہ سے مذاکرات کرے گا اور نہ ہی آبنائے ہرمز کو کھولے گا۔ اس حوالے سے ایرانی قیادت کی جانب سے مطلق ڈیٹرنس اور استقامت پر زور دیا گیا ہے۔

یہ کیوں اہم ہے

پاکستان اور پورے خطے کے لیے تہران اور ماسکو کے درمیان گہرے ہوتے ہوئے سفارتی اور توانائی کے تعلقات بہت اہمیت کے حامل ہیں۔ ایران کا ہمسایہ ملک ہونے کے ناطے، علاقائی راہداریوں میں استحکام، توانائی کی فراہمی اور جیو پولیٹیکل صورتحال براہ راست جنوبی ایشیا کی سلامتی اور معیشت پر اثر انداز ہوتی ہے۔