بچپن میں نازی مظالم اور ہولوکاسٹ کی ہولناکیوں کو جھیلنے والی 90 سالہ ایوا گیلر آخر کار زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے سڈنی کے ایک ہسپتال میں خالقِ حقیقی سے جا ملیں۔ بی بی سی کی رپورٹ کے مطابق، وہ تقریباً ایک سال قبل بونڈی بیچ پر ہونے والے اندوہناک مسلح حملے میں شدید زخمی ہوئی تھیں اور تب سے مسلسل ہسپتال کے چکر کاٹنے پر مجبور تھیں۔ نفیش سن گا۔گ کے ربّی آرون ماس نے اس امر کی تصدیق کی ہے کہ ان کی موت حملے کے بعد پیدا ہونے والی طبی پیچیدگیوں کی وجہ سے واقع ہوئی۔

بی بی سی کے مطابق، گزشتہ سال 14 دسمبر کو جب بونڈی بیچ پر یہودی برادری کے ایک اجتماع کو دو مسلح افراد نے نشانہ بنایا تو ایوا گیلر بھی ان بدقسمت افراد میں شامل تھیں جو گولیوں کا نشانہ بن کر شدید زخمی ہوئے تھے۔ آسٹریلیا کی تاریخ کے اس تین دہائیوں کے بدترین اجتماعی قتل عام میں ایک 10 سالہ بچی سمیت 15 افراد جاں بحق ہو گئے تھے۔

بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے ربّی آرون ماس نے بتایا کہ ایوا گیلر نے غیر معمولی حوصلے اور عزم کا مظاہرہ کیا۔ ڈاکٹروں کی پیش گوئیوں کے برعکس انہوں نے نہ صرف دوبارہ چلنا پھرنا شروع کر دیا تھا بلکہ حالیہ مقدس ایام کے دوران عبادتی اجتماع میں بھی شرکت کی تھی۔ آسٹریلوی رہنما انتھونی البانی نے ان کے انتقال پر گہرے دکھ کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ملک اس سانحے کے صدمے اور زخم اٹھانے والوں کو ہمیشہ یاد رکھے گا، جیسا کہ بی بی سی نے رپورٹ کیا۔

پس منظر

بی بی سی کے مطابق، دسمبر میں پیش آنے والے اس خونی واقعے کے بعد آسٹریلیا میں قانون سازی کے شعبے میں بڑے پیمانے پر تبدیلیاں لائی گئیں۔ اس سانحے کے نتیجے میں ملک میں اسلحے کے قوانین کو سخت کیا گیا اور نفرت انگیز تقاریر کے خلاف بھی سخت اقدامات کیے گئے۔ واقعے کے دوران پولیس نے جوابی کارروائی کرتے ہوئے 50 سالہ حملہ آور ساجد اکرم کو موقع پر ہی ہلاک کر دیا تھا۔ اس کے بیٹے نوید اکرم کو بعد ازاں گرفتار کر لیا گیا تھا جس پر قتل کے 15 الزامات، قتل کی کوشش کے 40 اور دہشت گردی کا ایک مقدمہ درج ہے، اور اس کا مقدمہ فی الحال عدالت میں زیرِ سماعت ہے۔

اس واقعے کی اہمیت

پاکستان میں بیٹھ کر بین الاقوامی حالات پر نظر رکھنے والے قارئین کے لیے یہ المناک خبر اس حقیقت کو اجاگر کرتی ہے کہ دہشت گردی اور نفرت پر مبنی تشدد کے زخم ابتدائی خبریں اور سر سرخیاں غائب ہو جانے کے باوجود طویل عرصے تک ہرے رہتے ہیں۔ اس واقعے کا پس منظر بتاتا ہے کہ کس طرح معاشرے اور عدالتی نظام اس طرح کے سانحات کے طویل مدتی اثرات کا سامنا کرتے ہیں، اور یہ عوامی سلامتی نیز متاثرہ افراد کی فلاح و بہبود کے حوالے سے دنیا بھر کے ممالک کو درپیش مشترکہ چیلنجوں کو بھی نمایاں کرتا ہے۔

آگے کیا ہوگا

بی بی سی کے مطابق، نیو ساؤتھ ویلز پولیس کا کہنا ہے کہ انہیں ایوا گیلر کے انتقال کی اطلاع مل چکی ہے اور وہ ضابطے کی کارروائی کے لیے کورونر کے دفتر کے ساتھ مل کر کام کر رہے ہیں۔ حکام نے فی الحال اس بات کی تردید یا تصدیق نہیں کی ہے کہ ان کے انتقال کے بعد کیا نئے الزامات عائد کیے جائیں گے۔