پیراگوئے کے لاکھوں شہریوں کو اس وقت شدید پریشانی کا سامنا کرنا پڑا جب ملک کا ایک بڑا ڈیجیٹل مالیاتی ادارہ یکدم بیٹھ گیا، جس کی وجہ سے شہریوں کی جمع پونجی، روزمرہ کے لین دین اور تنخواہیں معطل ہو کر رہ گئیں اور ملک میں گزشتہ 10 سال سے زائد عرصے کا سب سے بڑا سیاسی بحران کھڑا ہو گیا ہے۔ الجزیرہ کے مطابق اس صورتحال کے نتیجے میں صدر سانتیاگو پینا کو مواخذے کی کارروائی کا سامنا ہے اور انہوں نے جمعرات کے روز اپنے استعفیٰ کا اعلان بھی کر دیا تھا، تاہم قانون سازوں نے انہیں ہٹانے کی کوششیں جاری رکھیں۔

الجزیرہ نے بتایا کہ صدر پینا نے اپنے دفاع کی تیاری کے لیے 72 گھنٹے کی مہلت مانگی تھی اور مؤقف اختیار کیا تھا کہ انہیں تقریباً 300 صفحات پر مشتمل الزامات کا جائزہ لینے کے لیے 12 گھنٹے سے بھی کم وقت ملا جو کہ ضابطے کی کارروائی کی خلاف ورزی ہے۔ اس کے باوجود سینیٹ نے جمعہ کے روز ایک غیر معمولی اجلاس طلب کر کے ان کے خلاف کارروائی کو آگے بڑھایا۔ الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق پیراگوئے کے مرکزی بینک کے ریگولیٹرز نے پیر کے روز ادارے کو تحویل میں لے لیا تھا کیونکہ اس کی سالوینسی ریشو قانونی ضرورت سے نصف سے بھی کم رہ گئی تھی۔

مرکزی بینک کے اعداد و شمار کا حوالہ دیتے ہوئے الجزیرہ نے بتایا کہ اس بینک کے پاس 800 ملین ڈالر کے عوامی فنڈز موجود تھے، جن میں ریاستی پنشن اور ہیلتھ فنڈ کی جانب سے سرمایہ کاری کی گئی تقریباً 380 ملین ڈالر کی رقم بھی شامل تھی۔ الجزیرہ کے مطابق صارفین کے اکاؤنٹس اب بھی منجمد ہیں جس کی وجہ سے تقریباً 30 ملین صارفین، جو کہ بالغ آبادی کا تقریباً 60 فیصد بنتے ہیں، نقد رقم نکلوانے یا ڈیجیٹل ادائیگیوں سے محروم ہیں۔

پس منظر

الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق یونو بینک نے 1976 میں ایک چھوٹے مالیاتی ادارے کے طور پر آغاز کیا تھا اور اسے 2023 میں بینکنگ کا باقاعدہ لائسنس ملا۔ تیزی سے ری برانڈنگ کے بعد اس ادارے نے ملک بھر میں 70 سے زائد برانچوں کا نیٹ ورک پھیلایا، روزمرہ کی خریداری پر کیش بیک کی ترغیب دی، قومی فٹ بال ٹیم کی سرپرستی کی اور ملک کے اہم ترین اسٹیڈیم پر اپنے نام کی تشہیر کی۔ الجزیرہ نے یہ بھی نوٹ کیا کہ مارچ 2025 تک صدر پینا کی گروپ وازکویز میں مالی شراکت داری رہی جو اس بینک کی ہولڈنگ کمپنی ہے۔

اس بحران کی اہمیت

دور دراز سے مالیاتی تبدیلیوں کا جائزہ لینے والے قارئین کے لیے یہ ادارہ جاتی بحران اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ ڈیجیٹل مالیاتی نظام کی تیز رفتار توسیع اور سرکاری پنشن فنڈز کا کسی ایک تجارتی ادارے پر انحصار کس قدر خطرناک ہو سکتا ہے۔ جب اداروں کو مکمل تباہی سے بچانے کے لیے ریگولیٹری حفاظتی اقدامات کیے جاتے ہیں تو اس کا فوری انسانی نقصان ان عام مزدوروں اور ریٹائرڈ افراد کو اٹھانا پڑتا ہے جو اپنی کمائی اور بچت تک بلا تعطل رسائی پر انحصار کرتے ہیں۔

آگے کیا ہوگا

الجزیرہ کے مطابق ہنگامی پارلیمانی اجلاسوں کے بعد سینیٹ صدر کے سیاسی مستقبل کے حوالے سے اپنی کارروائی آگے بڑھا رہی ہے۔