جب کسی ملک کے ایک بڑے بینک میں اچانک طوفان برپا ہو جائے اور لاکھوں شہریوں کی جمع پونجی خطرے میں پڑ جائے، تو اقتدار کے ایوانوں تک ہلچل مچنا لازمی ہے۔ لاپاز کے قریب واقع ملک پیراگوئے میں بھی کچھ ایسا ہی ہنگامہ خیز منظر دیکھنے میں آیا، جہاں سنٹیاگو پینا کو عہدے سے ہٹائے جانے کے بعد پیڈرو الیانا نے نئے صدر کی حیثیت سے حلف اٹھا لیا ہے، جیسا کہ الجزیرہ اور دی ایسوسی یٹڈ پریس نے رپورٹ کیا ہے۔
الجزیرہ اور دی ایسوسی یٹڈ پریس کے مطابق، سنٹیاگو پینا کا سیاسی سفر جمعہ کے روز اس وقت انتہائی ڈرامائی انداز میں تمام ہوا جب سینیٹ کے 45 میں سے 44 ارکان نے ان کے خلاف مواخذے کے حق میں ووٹ دے دیا اور صرف ایک رکن نے غیر حاضری اختیار کی۔ یہ تیزی سے اٹھائے گئے پارلیمانی اقدامات اسی ہفتے سامنے آئے جب ملک کے ایک بڑے مالیاتی ادارے یونو بینک کا اچانک دیوالیہ پن سامنے آیا تھا۔ عہدے سے ہٹائے جانے کے بعد استغاثہ نے امانت میں خیانت اور دیگر جرائم کے شبہے میں سنٹیاگو پینا کو نظر بند کر دیا۔ ذرائع کے مطابق سنٹیاگو پینا نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ وہ عوام کے غم اور سوالات کا احترام کرتے ہوئے رخصت ہو رہے ہیں۔ دوسری جانب الجزیرہ اور دی ایسوسی یٹڈ پریس نے بتایا کہ مرکزی بینک کے سابق سربراہ کارلوس کاروالو کے خلاف بھی گرفتاری کا وارنٹ جاری کیا گیا ہے، جس پر نگرانی میں ناکامی کے شدید الزامات عائد کیے گئے تھے۔
پس منظر
ماخذ کے مطابق، اس بحران کا آغاز منگل کے روز اس وقت ہوا جب پیراگوئے کے مرکزی بینک نے اعلان کیا کہ یونو بینک قانونی solvency کے معیار پر پورا نہیں اترتا اور اس کے پاس اپنے کاروبار کے لیے کافی ضمانت موجود نہیں ہے۔ مرکزی بینک نے ادارے کو اپنی تحویل میں لے کر اثاثے منتقل کرنے کی کوشش کی تاکہ انہیں محفوظ بنایا جا سکے، تاہم لاکھوں صارفین اچانک اپنے اکاؤنٹس اور پنشن کی رقوم سے محروم ہو گئے۔ یہ بینک تیزی سے ترقی کرتے ہوئے جمع شدہ رقوم کے لحاظ سے ملک کا پانچواں بڑا بینک بن چکا تھا، جس میں 800 ملین ڈالر کی سرکاری رقم شامل تھی اور اس کے 3 ملین صارفین میں سے ایک ملین سے زائد افراد ایسے تھے جو پہلی بار بینکنگ نظام سے جڑے تھے۔ سنٹیاگو پینا، جو کولوراڈو پارٹی کے رکن ہیں اور 2023 میں صدر بنے تھے، کے بارے میں بتایا جاتا ہے کہ وہ پہلے یونو بینک کی پیرنٹ کمپنی میں حصص رکھتے تھے، اگرچہ رپورٹس کے مطابق انہوں نے 2025 کے اوائل میں یہ حصص فروخت کرنے کا دعویٰ کیا تھا۔ سنٹیاگو پینا کی برطرفی کے بعد، 52 سالہ قدامت پسند سیاستدان پیڈرو الیانا نے الجزیرہ اور دی ایسوسی یٹڈ پریس کی اطلاعات کے مطابق ملک کے نئے سربراہ مملکت کے طور پر حلف اٹھا لیا۔
اس بحران کی اہمیت
دور دراز سے عالمی حالات کا جائزہ لینے والوں کے لیے پیراگوئے کا یہ واقعہ اس بات کی واضح مثال ہے کہ جب مالیاتی استحکام، عوامی اعتماد اور سیاسی حکمرانی آپس میں ٹکرائیں تو ریاستیں کتنی تیزی سے بحران کا شکار ہو جاتی ہیں۔ عام شہریوں کے اکاؤنٹس کا اچانک منجمد ہو جانا یہ دکھاتا ہے کہ کس طرح معاشی عدم استحکام لمحوں میں ایک بڑے آئینی بحران کی شکل اختیار کر سکتا ہے، جو اداروں کی شفافیت اور عوامی املاک کے تحفظ کی اہمیت کو اجاگر کرتا ہے۔

Pedro Alliana
Carlos Carvallo