امریکہ میں ایک ایسی بیماری نے دوبارہ سر اٹھا لیا ہے جسے طبی ماہرین ایک عرصے پہلے شکست خوردہ سمجھ چکے تھے۔ الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق سال 2026 کے دوران اب تک امریکہ بھر میں خسرہ کے 5,182 تصدیق شدہ کیسز سامنے آ چکے ہیں جو 1991 کے بعد سب سے بلند ترین سطح ہے۔
الجزیرہ کے مطابق اس بیماری کی لپیٹ میں آنے والوں میں بچوں اور نوجوانوں کا تناسب تقریباً 59 فیصد ہے۔ پانچ سال سے کم عمر کے بچے کل کیسز کا 18 فیصد ہیں جبکہ 5 سے 19 سال کی عمر کے نوجوان 41 فیصد بنتے ہیں۔ الجزیرہ نے بتایا کہ اس سال کے مجموعی کیسز میں سے اکثریت، یعنی 4,993 کیسز وہ ہیں جو وبائی پھیلاؤ کے دوران سامنے آئے۔
الجزیرہ کے اعداد و شمار کے مطابق رواں سال کے یہ اعداد و شمار گزشتہ سال 2025 کے مقابلے میں دو گنا سے بھی زیادہ ہیں، جب 2,289 کیسز رپورٹ ہوئے تھے۔ بیماریوں کے کنٹرول اور روک تھام کے قومی ادارے سی ڈی سی کے مطابق ملک بھر میں اب تک 4 اموات ریکارڈ کی گئی ہیں، تاہم یہ وفاقی اعداد و شمار ریاستی سطح پر کیے جانے والے کام سے مختلف ہیں۔ الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق پنسلوانیا کے محکمہ صحت نے 1,487 کیسز اور 6 اموات کا اعلان کیا ہے جس سے یہ ریاست اس پوری وبا کا مرکز بن گئی ہے۔
الجزیرہ کے مطابق اس تفاوت نے پنسلوانیا کے گورنر جوش شاپیرو اور امریکی وزیر صحت رابرٹ ایف کینیڈی جونیئر کے درمیان خسرہ سے ہونے والی اموات کے تعین کے طریقۂ کار پر تنازع کو جنم دے دیا ہے۔ پنسلوانیا کا ضابطہ کہتا ہے کہ خسرہ سے جڑی موت وہ ہے جہاں کوئی تصدیق شدہ مریض علامات ظاہر ہونے کے 30 دن کے اندر دم توڑ جائے اور اس کی موت کی کوئی دوسری غیر متعلقہ وجہ موجود نہ ہو۔ الجزیرہ نے بتایا کہ اس سے قبل وزیر صحت کینیڈی کی جانب سے یہ سوال اٹھائے جانے کے بعد کہ آیا وائرس ہی موت کی اصل وجہ تھا یا نہیں، سی ڈی سی نے بغیر ویکسین والے دو افراد کی اموات کو اپنے ریکارڈ سے ہٹا دیا تھا۔
پس منظر
الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق امریکہ میں بیس سال پہلے خسرہ کے خاتمے کا اعلان کر دیا گیا تھا۔ تاہم حالیہ اضافہ امریکی کنڈرگارٹن کے بچوں میں ویکسینیشن کی شرح میں کمی کے بعد سامنے آیا ہے جو کہ 2019-2020 کے تعلیمی سال میں 95.2 فیصد تھی اور 2025-2026 کے تعلیمی سال میں کم ہو کر 92.4 فیصد پر آ گئی۔ عالمی سطح پر بھی خسرہ کے کیسز میں اضافہ دیکھا گیا ہے، خاص طور پر ان علاقوں میں جہاں صحت کی سہولیات کی کمی ہے یا ویکسین کے حوالے سے ہچکچاہٹ پائی جاتی ہے۔
متعددی امراض کے ماہرین نے الجزیرہ کو خبردار کیا ہے کہ اموات کی درجہ بندی پر ہونے والی اس بحث نے سی ڈی سی کو روایتی اور تسلیم شدہ طریقۂ کار کے آمنے سامنے لا کھڑا کیا ہے۔ ماہرینِ وبائی امراض کا کہنا ہے کہ خسرہ سے منسلک اموات کی نگرانی عالمی ادارہ صحت اور سی ڈی سی دونوں کی طرف سے طویل عرصے سے ایک معیاری عمل کے طور پر استعمال ہوتی رہی ہے۔
اس صورتحال کی اہمیت
پاکستان اور دنیا بھر کے قارئین کے لیے، یہ عوامی صحت کا ڈیٹا باقاعدگی سے حفاظتی ٹیکوں کے نظام کو مضبوط رکھنے کی انتہائی اہمیت کو اجاگر کرتا ہے۔ ویکسین سے روکے جانے والے اس وائرس کا کم شرحِ کوریج کے باوجود تیزی سے پھیلنا یہ یاد دہانی کراتا ہے کہ جب ویکسینیشن کی شرح گرتی ہے تو اجتماعی قوتِ مدافعت کتنی جلدی آزمائش میں پڑ جاتی ہے۔

Robert F Kennedy Jr
Josh Shapiro