اسرائیل میں منگل کے روز ایک انتہائی اہم پارلیمانی انتخاب کے لیے ووٹ ڈالے جا رہے ہیں، جسے الجزیرہ نے ملک کی تاریخ کے اہم ترین ووٹوں میں سے ایک قرار دیا ہے۔ الجزیرہ کے مطابق، یہ انتہائی نوعیت کا انتخاب ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب ملک طویل عرصے سے جاری تنازعات کی زد میں ہے، اسے بڑھتی ہوئی بین الاقوامی تنقید کا سامنا ہے اور اندرونی سیاسی کشیدگی انتہائی نچلی سطح پر پہنچ چکی ہے۔

الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق، 7 اکتوبر 2023 کو ہونے والے حملوں اور اس کے بعد غزہ میں فلسطینیوں کے خلاف شروع ہونے والی جنگ کے بعد یہ پہلا انتخابی امتحان ہے۔ پارلیمنٹ میں داخل ہونے کے لیے سیاسی جماعتوں کے لیے 3.25 فیصد کی انتخابی حد (تھریش ہولڈ) عبور کرنا لازمی ہے، جبکہ پارلیمنٹ کی مدت 4 سال ہوتی ہے۔

الجزیرہ کے مطابق، اس سیاسی منظرنامے میں جماعتیں واضح کیمپوں میں بٹی ہوئی ہیں۔ وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو کی لیکوڈ پارٹی کے زیر قیادت حامی اتحاد میں قدامت پسند مذہبی جماعتیں یونائیتد توراہ یہودائزم اور شاس کے علاوہ انتہائی دائیں بازو کی جماعتیں عوتسما یہودیت اور ریلیجیئس صونیزم شامل ہیں، جن کی قیادت بالترتیب ایتامار بن گویر اور بیزالیل سموٹرچ کر رہے ہیں۔ الجزیرہ نے بتایا کہ اہم اپوزیشن اتحاد چار یہودی اکثریتی تحریکوں پر مشتمل ہے، جن میں گادی آئزن کوٹ کی یشار پارٹی، یائر گولان کی ڈیموکریٹس، ایوگڈور لیبرمین کی یسرائیل بیتینو، اور نفتالی بین یٹ اور یائر لاپڈ کا ٹوگیدر الائنس شامل ہیں۔

پس منظر

الجزیرہ کے مطابق، یہ ووٹ جاری علاقائی تنازعات اور بڑھتی ہوئی اندرونی کشیدگی کے درمیان اسرائیل کی حکومت کی اگلی سمت کا تعین کرے گا۔ انتخاب سے قبل پابندی سے پہلے شائع ہونے والے تازہ ترین آرا عامہ کے جائزوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ کسی بھی بڑے بلاک کو پارلیمنٹ کی 61 نشستوں کی واضح اکثریت ملتی دکھائی نہیں دے رہی۔ الجزیرہ کی طرف سے نقل کیے گئے پبلک براڈکاسٹر کان کے ایک پول کے مطابق، اپوزیشن اتحاد کینسیت کی 120 میں سے 52 نشستیں جیت سکتا ہے، جبکہ نیتن یاہو کے بلاک کو 50 نشستیں ملنے کا تخمینہ ہے۔ باقی نشستیں غیر وابستہ جماعتوں کو ملنے کا امکان ہے، جن میں عرب اکثریتی فہرستیں جیسے کہ رعم اور جوائنٹ لسٹ بھی شامل ہیں۔ الجزیرہ نے نوٹ کیا کہ دونوں بڑے بلاکس نے مؤثر طریقے سے عرب قیادت والی جماعتوں کے ساتھ اتحاد کرنے سے انکار کر دیا ہے۔

اس کی اہمیت کیوں ہے

پاکستان سے بین الاقوامی حالات کا مشاہدہ کرنے والے قارئین کے لیے، یہ انتخابات طویل مدتی علاقائی تنازع کے دوران مغربی ممالک کے ایک قریبی حلیف کی پیچیدہ سیاسی حرکیات اور پارلیمانی میکانزم کو اجاگر کرتے ہیں۔ ان قانون ساز انتخابات کے نتائج اور اس کے بعد کی اتحادی بات چیت عالمی سطح پر اسٹریٹجک اہمیت کے حامل خطے میں حکومتی قیادت اور گورننس کی تشکیل کریں گے۔