کھیلوں کی دنیا میں اس وقت شدید تشویش کی لہر دوڑ گئی جب یہ انکشاف ہوا کہ فلاڈیلفیا ایگلز کے نامور کوارٹہ بیک جایلن ہرٹس نے ٹانگ میں خون کے لوتھڑے کی ابتدائی تشخیص کے باوجود ایک اہم پروفیشنل میچ کھیل لیا۔ برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی اسپورٹ کی رپورٹ کے مطابق، اس واقعے نے کھلاڑیوں کی صحت، حفاظتی اصولوں اور بین الاقوامی میچوں کے دوران طبی معاملات پر مینجمنٹ کے فیصلوں پر اہم سوالات اٹھا دیے ہیں۔

بی بی سی اسپورٹ کے مطابق جایلن ہرٹس نے 4 اکتوبر کو لاس اینجلس ریمز کے خلاف میچ کے دوران بائیں پنڈلی پر چوٹ لگنے کی شکایت کی تھی، جس کے بعد انہوں نے 8 اکتوبر کو اس مسئلے کا ذکر کیا۔ ہفتے بھر ٹریننگ اور علاج کا سلسلہ جاری رہنے کے بعد ٹیم 10 اکتوبر بروز ہفتہ صبح کے وقت لنڊن پہنچی۔

رپورٹ میں بتایا گیا کہ لنڊن پہنچنے کی اسی شام ہرٹس نے کلیولینڈ کلینک کا دورہ کیا جہاں الٹراساؤنڈ کے دوران ان کی پنڈلی میں سطحی خون کا لوتھڑا (بلڈ کلٹ) پایا گیا، اس کے باوجود انہیں میچ کھیلنے کی اجازت دے دی گئی۔ بی بی سی اسپورٹ کے مطابق وہ اتوار 11 اکتوبر کو صبح تقریباً 3 بجے ٹیم ہوٹل واپس آئے اور ٹٹنہم ہاٹ اسپور اسٹیڈیم میں جیکسن ویل جگیوارز کے خلاف پورا میچ کھیلا۔

ابتدائی اطلاعات میں یہ بات سامنے آئی تھی کہ ہرٹس نے میچ سے پہلے 36 گھنٹے تک نیند نہیں کی، تاہم ان کے ایجنٹ نے بعد میں واضح کیا کہ انہوں نے ہوٹل اور اسٹیڈیم میں آرام کیا تھا۔ میچ کے بعد انہیں امریکہ واپسی کی پرواز کے لیے بھی فٹ قرار دے دیا گیا۔

تاہم 14 اکتوبر بروز بدھ روزانہ کے علاج اور ایک اور الٹراساؤنڈ سے معلوم ہوا کہ لوتھڑا اپنی جگہ سے ہل چکا ہے، جس کے بعد انہیں ٹیم کے اگلے میچ سے باہر کر دیا گیا۔ 19 اکتوبر بروز پیر فلاڈیلفیا ایگلز اور جایلن ہرٹس کے ایجنٹ کی جانب سے جاری کردہ مشترکہ بیان میں انکشاف کیا گیا کہ مزید طبی ٹیسٹوں سے ڈیپ وین تھرومبوس اور دونوں پھیپھڑوں میں خون کے لوتھڑوں (پلمونری ایمبولی) کی تشخیص ہوئی ہے۔

پس منظر

بی بی سی اسپورٹ نے اس پورے واقعے کی تفصیلات اور تاریخ وار احوال پیش کیا ہے۔ جایلن ہرٹس کو 4 اکتوبر کو بائیں ٹانگ میں چوٹ لگی، 8 اکتوبر کو انہوں نے اس کی اطلاع دی اور 10 اکتوبر کو لنڊن میں طبی معائنہ کرایا گیا۔ اس کے باوجود انہوں نے 11 اکتوبر کو جیکسن ویل جگیوارز کے خلاف میچ کھیلا۔ اس وقت دی جانے والی ہدایات میں 72 گھنٹوں کے اندر فالو اپ الٹراساؤنڈ کرانا اور واپسی کی پرواز کی اجازت دینا شامل تھا۔ بعد میں 14 اکتوبر اور 19 اکتوبر کے اسکینز نے بیماری کی شدت کو واضح کر دیا۔

یہ معاملہ کیوں اہم ہے

کھیلوں کے دنیا بھر کے حلقوں اور شائقین کے لیے یہ واقعہ کھلاڑیوں کی صحت اور مقابلوں کے دباؤ کے درمیان نازک توازن کی عکاسی کرتا ہے۔ اس کیس سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ انتہائی درجے کے پروفیشنل کھیلوں میں سخت طبی نگرانی اور شفاف صحت کے اصول کتنے اہم ہیں، خاص طور پر اس وقت جب بین الاقوامی سفر اور مصروف شیڈول کے دوران فوری طبی فیصلے کرنا پڑتے ہیں۔

آگے کیا ہوگا

بی بی سی اسپورٹ کے مطابق، جایلن ہرٹس کا علاج خون پتلا کرنے والی ادویات کے ذریعے کیا جائے گا۔ اگرچہ ان کے مکمل صحت یاب ہونے کی توقع ہے، لیکن طبی رپورٹس کے مطابق وہ اس سیزن کے باقی ماندہ میچوں میں شرکت نہیں کر سکیں گے۔