انسانیت ایک بار پھر خلا کی وسعتوں میں چھپے رازوں کو چھونے کے لیے تیار ہے۔ بی بی سی نیوز کی رپورٹ کے مطابق، جاپان کا ایک خلائی مشن پیر کو مریخ کے سب سے بڑے چاند 'فوبوس' سے مٹی کا نمونہ حاصل کرنے اور اسے زمین پر واپس لانے کے لیے روانہ ہوگا۔

بی بی سی کے مطابق یہ خلائی جہاز اگست 2027 تک مریخ کے قریب پہنچ جائے گا۔ اگر یہ مشن کامیاب رہا تو تاریخ میں پہلی بار ایسا ہوگا کہ مریخ یا اس کے کسی چاند سے کوئی نمونہ زمین کی لیبارٹریوں میں تجزیے کے لیے لایا جائے گا۔

جاپان کی خلائی ایجنسی کے تحت چلنے والے اس مشن کا سرکاری نام 'مارس مونز ایکسپلوریشن' (MMX) ہے۔ قدرتی تاریخ کے عجائب گھر سے وابستہ اور اس مشن کے نمونوں کے تجزیاتی امور کی نگران پروفیسر سارہ رسل نے بی بی سی کو بتایا کہ اب تک فوبوس پر جانے اور وہاں سے کوئی چیز زمین پر واپس لانے کا کوئی مشن کامیاب نہیں ہو سکا۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ ایک انتہائی پرجوش اور دلچسپ مشن ہے۔

پس منظر

بی بی سی نیوز کے مطابق پورے اندرونی نظام شمسی میں صرف تین چاند موجود ہیں: زمین کا اپنا چاند، اور مریخ کے دو چاند جن کے نام فوبوس اور ڈیموس ہیں۔ بی بی سی کی رپورٹ کے مطابق مریخ کے دونوں چاند انتہائی چھوٹے اور بے قاعدہ شکل کے ہیں جو کسی خلائی آلو سے مشابہت رکھتے ہیں۔ فوبوس کا سائز تقریباً 20 کلومیٹر اور ڈیموس کا سائز تقریباً 10 کلومیٹر ہے۔

بی بی سی نے بتایا کہ MMX خلائی جہاز مریخ کے قریب پہنچ کر پہلے ڈیموس کا مشاہدہ کرے گا اور پھر فوبوس پر توجہ مرکوز کرے گا۔ اس مشن کے تحت وہاں کی زمین کا جائزہ لینے کے لیے ایک چھوٹا روور بھی اتارا جائے گا، حالانکہ بی بی سی نیوز کے مطابق اس سے پہلے کسی نے اتنے چھوٹے چاند پر روور نہیں اتارا۔ پروفیسر سارہ رسل نے بی بی سی کو بتایا کہ چاند کی اپنی کشش ثقل کا نہ ہونا اور قریب ہی ایک بہت بڑے سیارے کی شدید کشش ثقل کا موجود ہونا اس لینڈنگ کو انتہائی مشکل بنا دیتا ہے۔

بی بی سی نیوز کے مطابق روور اترنے کی جگہ تلاش کرے گا تاکہ اصل خلائی جہاز زمین پر اتر کر ایک روبوٹک بازو اور دو سampler نصب کر سکے۔ اکٹھی کی گئی چاند کی مٹی کو ایک چھوٹے کیپسول میں بند کیا جائے گا اور بی بی سی کے مطابق یہ 2031 تک جنوبی آسٹریلیا کے ووچیرا صحرا میں واپس اترے گا۔ لیسسٹر یونیورسٹی کی ڈاکٹر کریسا اوڈیلیڈو نے بی بی سی کو بتایا کہ واپس لایا جانے والا مادہ محض 10 گرام وزنی ہوگا، لیکن سائنسدان اکیلے ذرات پر بھی متعدد تحقیقات انجام دے سکتے ہیں۔

اس مشن کی اہمیت کیوں ہے؟

بی بی سی نیوز کے مطابق سائنسدانوں کو امید ہے کہ یہ مشن اس دیرینہ معمے کو حل کر دے گا کہ مریخ کے چاند تقریباً 4.5 ارب سال پہلے کیسے بنے تھے۔ بی بی سی نے اس سلسلے میں دو اہم نظریات بیان کیے ہیں: یا تو مریخ کی تاریخ کے ابتدائی دور میں کوئی خلائی چٹان اس سے ٹکرا گئی تھی جس کے ملبے سے فوبوس اور ڈیموس بنے، یا پھر یہ چاند بیرونی نظام شمسی سے آنے والے آوارہ سیارچے ہیں جنہیں مریخ کی کشش ثقل نے اپنی لپیٹ میں لے لیا۔