عالمی فٹ بال کے ایوانوں میں اُس وقت ہلچل مچ گئی جب جاپانی فٹ بال کے ایک اعلیٰ عہدیدار نے ذاتی اقدار اور اصولوں کی خاطر اپنے عہدے سے دستبردار ہونے کا فیصلہ کر لیا۔ الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق، تاکتاکیشیی اوکاڈا نے جاپانی فٹ بال ایسوسی ایشن (جے ایف اے) کے نائب صدر کے منصب سے استعفیٰ دے دیا ہے، کیونکہ ایشیائی فٹ بال کنفیڈریشن (اے ایف سی) نے فیفا کے صدر گیانی انفانتینو کی دوبارہ بحیثیت صدر نامزدگی کی حمایت کرنے کا اعلان کیا تھا۔
تاکتاکیشیی اوکاڈا، جنہوں نے ماضی میں 1998 اور 2010 کے ورلڈ کپ میں جاپانی قومی ٹیم کی کوچنگ بھی کی تھی، نے واضح کیا کہ انہوں نے یہ قدم اپنی مرضی اور ضمیر کے تحت اٹھایا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ حالیہ عالمی کپ کے تنازعات سے جس طرح نپٹا گیا، وہ کھیل کی دیانت داری اور ان کے ذاتی اصولوں سے میل نہیں کھاتا۔
الجزیرہ کے مطابق، اوکاڈا کا یہ فیصلہ اے ایف سی کے صدر شیخ سلمان بن ابراہیم الخلیفہ کے اُس اعلان کے صرف ایک ہفتے بعد سامنے آیا ہے جس میں انہوں نے ٹوکیو میں ایک ملاقات کے دوران انفانتینو کی حمایت کا غیر مشروط اعلان کیا تھا۔ اس سے قبل اے ایف سی نے یورپی اور شمالی امریکی فٹ بال اداروں کے ساتھ مل کر انفانتینو کے اس منصوبے کی مذمت کی تھی جس کے تحت ورلڈ کپ جیسے اہم مقابلوں کو نجی سرمایہ کاروں کے لیے کھولنے کا ارادہ تھا۔ الجزیرہ نے بتایا کہ 2016 سے فیفا کی صدارت سنبھالنے والے انفانتینو اس ناکام نجی سرمایہ کاری کے منصوبے پر معذرت بھی کر چکے ہیں اور وہ مارچ میں چوتھی اور آخری مدت کے لیے انتخاب لڑ رہے ہیں۔
پس منظر
الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق، بین الاقوامی فٹ بال کیچڑ میں علاقائی ویں بدلتی صورتحال نے سب کو حیران کر دیا ہے۔ ٹوکیو کے اجلاس سے محض دو ماہ قبل تک اے ایف سی، یوئیفا اور کونکا کاف نے ایک مشترکہ خط جاری کیا تھا جس میں کہا گیا تھا کہ فٹ بال کسی فرد واحد کی ملکیت نہیں۔ تاہم صورتحال اس وقت تبدیل ہو گئی جب شیخ سلمان نے انفانتینو کی دوبارہ انتخاب میں کامیابی کے لیے اے ایف سی کی حمایت کا اعلان کر دیا۔ اوکاڈا نے اپنے بیانات میں تسلیم کیا، جیسا کہ الجزیرہ نے رپورٹ کیا، کہ وہ جاپانی فٹ بال اور اے ایف سی کے تعلقات اور جاپان میں کھیل پر پڑنے والے اثرات کے پیش نظر اس بات کو سمجھتے تھے کہ جاپانی فٹ بال کو وسیع تر اے ایف سی کے موقف سے ہم آہنگ کرنے کی عملی وجوہات تھیں، لیکن وہ بالآخر اس سمت کو قبول کرنے پر تیار نہ ہوئے۔
یہ معاملہ کیوں اہم ہے
دنیا بھر کے کھیلوں کے منتظمین اور شائقین کے لیے یہ استعفیٰ اس کشمکش کو نمایاں کرتا ہے جو عالمی کھیلوں کے اداروں میں ادارہ جاتی وابستگی اور انفرادی اخلاقی اصولوں کے درمیان ہمیشہ سے موجود رہی ہے۔ جیسے جیسے بین الاقوامی کھیل کی انتظامیہ قیادت کے انتخابات اور تجارتی دباؤ کا سامنا کر رہی ہے، اعلیٰ ترین سطح پر کیے جانے والے فیصلے قومی ایسوسی ایشنز کے لیے گہرے اثرات مرتب کر رہے ہیں۔

