شام کے جنوبی علاقوں میں اچانک ہونے والے فضائی حملوں کے بعد دونوں ملکوں کے درمیان سرحدی آمدورفت معطل ہو کر رہ گئی ہے۔ الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق، اردنی جنگی طیاروں نے ان حملوں میں مسلح گروہوں کے مبینہ ٹھکانوں کو نشانہ بنایا، جن کے بارے میں عمان کا کہنا ہے کہ یہ کارروائی اردن کے شہر کرک میں ایک چرچ پر ہونے والے حملے کے ردعمل میں کی گئی۔

الجزیرہ کے مطابق، اردنی فوج کا مؤقف ہے کہ یہ فضائی حملے شام کے جنوب مشرقی حصوں میں شدت پسندوں کے خلاف کیے گئے، جن کا مقصد دہشت گردوں کے ٹھکانوں کو تباہ کرنا تھا۔ اردنی حکام کا دعویٰ ہے کہ یہ کارروائی شامی حکومت کی شراکت سے عمل میں لائی گئی تھی اور اس میں عسکریت پسندوں کو نقصان پہنچایا گیا۔

دوسری جانب شامی حکومت نے اس مؤقف کی تردید کی ہے۔ الجزیرہ کے مطابق، شام کی وزارت خارجہ کا کہنا ہے کہ یہ کارروائی کسی پیشگی اطلاع یا ہم آہنگی کے بغیر کی گئی، اور اس معاملے کی تحقیقات شروع کر دی گئی ہیں۔ شامی حکام نے اس کارروائی کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے ملکی خودمختاری کے تحفظ کے عزم کا اظہار کیا ہے۔

شام کے سول ڈیفنس کے حوالے سے الجزیرہ نے بتایا کہ درعا اور سویدا کے دیہی علاقوں میں ہونے والی بمباری کے نتیجے میں سات افراد جاں بحق ہوئے، جن میں تین بچے، دو خواتین اور دو مرد شامل ہیں۔ اس کارروائی کے فوراً بعد شام کے سرحدی حکام نے نصیب کراسنگ کو بند کرنے کا اعلان کر دیا، جس سے دونوں ممالک کے درمیان مسافروں اور تجارتی گاڑیوں کی آمدورفت معطل ہو گئی ہے۔

پس منظر

الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق، یہ کشیدگی اردن کے شاہ عبداللہ دوم کے اس عزم کے بعد پیدا ہوئی جس میں انہوں نے کرک کے چرچ حملے کا سخت جواب دینے کا اعلان کیا تھا۔ واقعے سے قبل اردنی سیکیورٹی فورسز نے الجدید میں ایک کارروائی کے دوران گرجے پر حملے میں ملوث ہونے کے شبے میں تین افراد کو گرفتار کیا تھا۔ حکومتی ذرائع کے مطابق یہ ملزمان سیکیورٹی فورسز کے ساتھ جھڑپ میں زخمی ہوئے۔

اہمیت کیوں رکھتی ہے

خطے کے تناظر میں دیکھا جائے تو نصیب بارڈر کی بندش سے اردن اور شام کے مابین تجارتی سپلائی لائنیں اور مسافروں کی آمدورفت شدید متاثر ہوئی ہے۔ پڑوسی ممالک کے درمیان اس نوعیت کی کشیدگی اور سرحدی سیکیورٹی کے امور پورے خطے کے امن اور استحکام کے لیے گہرے اثرات کے حامل ہیں۔