ہانگ کانگ کی جمہوریت نواز تحریک کے نمایاں چہرے جوشوا وونگ جمعرات کو عدالت میں پیش ہوئے، جہاں انہیں 10 سال قید کی سزا سنائی گئی۔ بی بی سی نیوز کے مطابق، گہرے نیلے رنگ کی آستین والی قمیض اور سیاہ فریم والے چشمے پہنے ہوئے 30 سالہ جوشوا وونگ کو پچھلے چھ سال کی قید کے باعث کافی کمزور دیکھا گیا۔ جج کی جانب سے قومی سلامتی کے قانون کے تحت غیر ملکی طاقتوں سے ساز باز کرنے میں ان کے کردار کی تفصیلات بتانے سے پہلے انہوں نے عدالت میں موجود ہجوم کی طرف سر ہلایا۔

استغاثہ نے عدالت کو بتایا کہ وونگ نے جولائی اور نومبر 2020 کے آخر کے درمیان دیگر مہم چلانے والوں کے ساتھ مل کر بیجنگ کے خلاف بین الاقوامی پابندیوں کے لیے لابنگ کی۔ ان کے ساتھ جلاوطن کارکن نیتھن لا بھی شامل تھے۔ جوشوا وونگ نے ستمبر میں ہی ان الزامات کے تحت اپنا جرم قبول کر لیا تھا۔

عدالت کو بتایا گیا کہ جوشوا وونگ اور نیتھن لا نے ڈیمو سسٹو نامی ایک سیاسی جماعت کی بنیاد رکھی تھی جو اب تحلیل ہو چکی ہے۔ عدالت کے باہر پولیس کی بھاری نفری موجود تھی جبکہ عام شہریوں کی بڑی تعداد نے عدالت میں جگہ پانے کے لیے گھنٹوں قطاروں میں انتظار کیا۔ بی بی سی کے مطابق، سماعت کے دوران وونگ وقفے وقفے سے نوٹس لیتے رہے۔

بی بی سی نیوز کی رپورٹ کے مطابق، جوشوا وونگ اس سے قبل بھی ریاست مخالف سرگرمیوں کے الزام میں سزا کاٹ رہے تھے اور انہیں اگلے سال کے شروع میں رہا ہونا تھا، لیکن اس تازہ سزا نے صورتحال بدل دی ہے۔ انسانی حقوق کی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل نے کہا ہے کہ ان الزامات سے حکام کی جانب سے معروف سیاسی مخالفین کے خوف اور انہیں طویل عرصے تک قید میں رکھنے کی روش کا پتہ چلتا ہے۔

پس منظر

بی بی سی نیوز کے مطابق، ہانگ کانگ میں بیجنگ کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ کے خلاف بڑے پیمانے پر ہونے والے مظاہروں کے بعد 2020 میں قومی سلامتی کا قانون نافذ کیا گیا تھا۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ اس قانون کا استعمال اختلاف رائے کو دبانے کے لیے کیا جا رہا ہے، جبکہ حکام کا اصرار ہے کہ یہ قانون شہر میں امن و استحکام برقرار رکھنے کے لیے ضروری ہے اور اس سے خودمختاری کو نقصان نہیں پہنچا۔

جوشوا وونگ کی سیاسی سرگرمیوں کا آغاز ان کے نوجوانی کے دنوں سے ہو گیا تھا۔ اکتوبر 1996 میں پیدا ہونے والے وونگ کے والد راجر ایک آئی ٹی پروفیشنل ہیں جبکہ والدہ گریس گھریلو خاتون ہیں۔ بچپن میں انہیں پڑھنے میں دشواری کا سامنا رہا، لیکن وہ روایتی اصولوں کو چیلنج کرنے سے پیچھے نہیں ہٹے۔ بی بی سی نیوز کے مطابق، ان کی پہلی سیاسی سرگرمی اسکول کے کینٹین میں مہنگے کھانوں کے خلاف فیس بک پر طلباء کو اکٹھا کرنا تھی۔

صرف 14 سال کی عمر میں انہوں نے اسکالرازم نامی طلباء گروپ کی بنیاد رکھی۔ یہ گروپ تیزی سے اثر و رسوخ حاصل کر گیا اور اس نے حکومتی تعلیمی نصاب کے خلاف ایک لاکھ سے زائد افراد کو احتجاج کے لیے جمع کیا۔ جوشوا وونگ کو اپنی دہائی طویل سرگرمیوں کے دوران متعدد بار قید کا سامنا کرنا پڑا، جو اب 2020 کے واقعات پر اس 10 سالہ سزا کی صورت میں سامنے آیا ہے۔

اس کی کیا اہمیت ہے

اتنے نمایاں رہنما کو سزا سنایا جانا ہانگ کانگ کے بدلتے ہوئے قانونی اور سیاسی منظر نامے کی عکاسی کرتا ہے۔ پاکستان سمیت بین الاقوامی مبصرین کے لیے، یہ پیش رفت قومی سلامتی کے قوانین اور سیاسی اختلاف رائے کے حق کے درمیان توازن کے جاری عالمی بحث کو اجاگر کرتی ہے۔ یہ مقدمہ ہانگ کانگ کی خودمختاری اور بیجنگ کی مرکزی حکومت کے ساتھ اس کے تعلقات کی تاریخ میں ایک اہم موڑ کی حیثیت رکھتا ہے۔