کینیا میں صحت کے حکام نے ایبولا کے آٹھویں کیس کی تصدیق کر دی ہے، جس کے بعد ملک بھر میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے۔ یہ نیا معاملہ ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب جمہوری جمہوریہ کانگو سے شروع ہونے والی اس مہلک وبا کے اثرات پڑوسی ملکوں تک پھیل رہے ہیں۔

الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق، جو کہ اے ایف پی، اے پی اور رائیٹرز کی اطلاعات پر مبنی ہے، کینیا کے محکمہ صحت کے حکام نے بتایا کہ ٹیسٹ کیے جانے والے 38 افراد میں سے ایک کا نتیجہ مثبت آیا ہے۔ صحت کے ڈائریکٹر جنرل پیٹرن اموتھ نے کینیا کے سٹیزن ٹی وی کو بتایا کہ تازہ ترین مریض ایک 49 سالہ شخص ہے جو ہسپتال میں بستروں اور برتنوں کی صفائی کا کام کرتا تھا، اور اس میں بخار، سر درد اور جسم کے درد جیسی علامات ظاہر ہوئیں۔ وزارتِ صحت کے ذرائع کا کہنا ہے کہ اس شخص کا واسطہ ممکنہ طور پر کینیا کے پہلے ایبولا مریض سے رہا تھا۔

وزارتِ صحت نے اس سے قبل چار نئے کیسز کی تصدیق کی تھی، جن میں وہ تین طبی کارکنان بھی شامل تھے جنہوں نے ملک کے پہلے مریض کا علاج کیا تھا، اور ایک متوفی کا رشتہ دار بھی شامل تھا۔ الجزیرہ کی تفصیلات کے مطابق، پہلا مریض جمہوری جمہوریہ کانگو سے سفر کر کے نوبی پہنچا تھا جہاں 5 اکتوبر کو ایک ہسپتال میں اس کا انتقال ہو گیا تھا۔

پس منظر

الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق، جمہوری جمہوریہ کانگو سے اس خطرناک وائرس کے سرحد پار پھیلنے کے بعد سے کینیا میں ہائی الرٹ جاری ہے۔ موجودہ وبا میں وائرس کی 'بنڈیبگیو' (Bundibugyo) قسم پائی گئی ہے، جس کے لیے تاحال کوئی ویکسین یا مخصوص علاج دستیاب نہیں ہے۔ الجزیرہ نے بتایا کہ جمہوری جمہوریہ کانگو میں اب تک کم از کم 9,400 کیسز ریکارڈ ہو چکے ہیں جن میں 4,500 سے زائد اموات شامل ہیں، جو کہ مئی میں شروع ہونے والی اس ملک کی تاریخ کی سب سے تباہ کن وبا ہے۔ ایتوری (Ituri) کا علاقہ اس کا مرکز بنا ہوا ہے جہاں تصدیق شدہ کیسز کا بڑا حصہ سامنے آیا ہے، جبکہ اب یہ وائرس آٹھویں صوبے نارتھ اوبانگی تک بھی پہنچ چکا ہے۔ سرکاری خبر رساں ادارے اے سی پی کے مطابق، شمالی کیوو صوبے کے حکام نے ایتوری سے آنے والے افراد پر ایک ہفتے کی پابندی عائد کرنے کے ساتھ ساتھ مسافروں کی تعداد محدود کرنے اور بڑے عوامی اجتماعات معطل کرنے کے اقدامات کیے ہیں۔ یاد رہے کہ اس سے قبل پڑوسی ملک یوگنڈا میں بھی 20 کیسز اور دو اموات سامنے آئی تھیں، تاہم اگست میں اسے ایبولا سے پاک قرار دے دیا گیا تھا۔

یہ صورتحال کیوں اہم ہے؟

بین الاقوامی صحت عامہ کے امور پر نظر رکھنے والے قارئین کے لیے سرحد پار بیماریوں کا پھیلاؤ اس بات کی یاد دہانی ہے کہ بغیر کسی مخصوص علاج کے پائے جانے والے اس طرح کے خطرناک جراثیم سے نمٹنے کے لیے مضبوط نگرانی، فوری حفاظتی اقدامات اور عالمی سطح پر تعاون کی کتنی زیادہ ضرورت ہے۔