سیالکوٹ میں ایک پروقار تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر دفاع خواجہ آصف نے نظامِ حکومت اور سیاسی گرفتاریوں کے تلخ حقائق پر کھل کر بات کی۔ جیو نیوز کے مطابق ان کا کہنا تھا کہ جب سیاسی حکومتیں کسی کو حراست میں لینے کا فیصلہ کرتی ہیں تو اکثر جیل کا دروازہ بند ہونے کے بعد الزامات کی تلاش شروع کی جاتی ہے۔

خواجہ آصف نے اپنے طویل سیاسی سفر کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ وہ اپنی زندگی میں چار بار قید و بند کی صعوبتیں برداشت کر چکے ہیں۔ ان میں سال 2020 میں پی ٹی آئی کے دورِ حکومت میں نیب کی تحویل میں کٹی جانے والی وہ چھ ماہ کی قید بھی شامل ہے جب تفتیش کرنے والے ان پر عائد الزامات کا کوئی واضح جواز پیش کرنے سے قاصر تھے۔ اس موقع پر انہوں نے قومی اسمبلی میں جے یو آئی کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کے ساتھ اپنی حالیہ ملاقات کا ذکر بھی کیا اور ان کی سیاسی توانائی کو سراہا۔

بین الاقوامی امور پر بات کرتے ہوئے جیو نیوز کے مطابق وزیر دفاع کا کہنا تھا کہ پاکستان ایران اور امریکہ کے درمیان کشیدگی کم کرنے اور تہران اور اس کے عرب ہمسایہ ممالک کے مابین خلیج پاٹنے میں تاریخی کردار ادا کر رہا ہے۔ انہوں نے چیف آف ڈیفنس فورسز اور آرمی چیف فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی قیادت میں ہونے والی سفارتی کوششوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ ملک نے عالمی سطح پر وہ مقام حاصل کیا ہے جس پر ہر پاکستانی فخر محسوس کر سکتا ہے۔

پس منظر

جیو نیوز کی رپورٹ کے مطابق خواجہ آصف کے یہ بیانات حکمران جماعت پاکستان مسلم لیگ نواز اور حزبِ اختلاف پاکستان تحریک انصاف کے درمیان جاری کشیدگی کے تناظر میں سامنے آئے ہیں۔ اپوزیشن جماعت مسلسل یہ الزام عائد کرتی رہی ہے کہ موجودہ وفاقی حکومت سیاسی انتقام کا نشانہ بنا رہی ہے، جس کی بڑی مثال بانی پی ٹی آئی اور ان کی جماعت کے کئی رہنماؤں کی قید ہے۔ دونوں فریقین کے درمیان تناؤ اس وقت مزید شدت اختیار کر گیا جب گیارہ اکتوبر کو خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج نافذ کیا گیا، جس نے وہاں کی صوبائی حکومت کو غیر فعال کر دیا۔ جیو نیوز کے مطابق اس اقدام کے دوران وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی اور کئی کابینہ ارکان کو حفاظتی حراست میں لیا گیا، جسے وفاقی حکومت نے دہشت گردی کے خلاف ایک لازمی سکیورٹی قدم قرار دیا جبکہ تحریک انصاف نے اسے سیاسی انتقام سے تعبیر کیا۔

اس کی اہمیت کیا ہے

ملکی سیاسی صورتحال کا بغور مشاہدہ کرنے والے عام شہریوں کے لیے سینئر وفاقی شخصیات کی جانب سے احتساب اور گرفتاری کے طریقوں پر اس قسم کے بیانات گورننس، قانون کی حکمرانی اور ملکی اداروں کے استحکام کے حوالے سے جاری اہم مباحث کا حصہ ہیں۔ دوسری جانب خطے کے تنازعات میں حکومت کی سفارتی مصروفات یہ واضح کرتی ہیں کہ کس طرح اندرونی سیاسی کھینچ تان اور بین الاقوامی امور ایک دوسرے پر اثر انداز ہوتے ہیں۔