اسرائیل میں 27 اکتوبر کو ہونے والے انتخابات سے سرحد کے دوسری طرف لبنان کے باسیوں کے دلوں میں کوئی امید نہیں جاگی، اور وہاں کے عوام کو شدید شک ہے کہ کوئی بھی نئی حکومت اپنی فوجی پالیسیوں میں تبدیلی لائے گی یا جنوبی لبنان کا قبضہ ختم کرے گی۔ الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق، اس کے باوجود کہ موجودہ حکومت کو ہٹائے جانے کا امکان ہے جس نے جنوبی لبنان پر حملے اور دوبارہ قبضے کی نگرانی کی تھی، مقامی آبادی میں امید کی کرن دکھائی نہیں دیتی۔

الجزیرہ سے بات کرتے ہوئے بیروت کے رہائشی اور وکیل فواد دبس نے کہا کہ اسرائیل میں کسی بھی اندرونی سیاسی تبدیلی سے لبنان کے لیے کسی بڑے فرق کی توقع نہیں کی جا سکتی۔ انہوں نے یہ بھی اشارہ کیا کہ بیرونی دنیا کو مستحکم چہرہ دکھانے کے لیے محض معمولی تبدیلیاں کی جا سکتی ہیں۔ یہ سوچ اس گہرے عدم اعتماد کی عکاسی کرتی ہے جو تاریخ کے تلخ تجربات، فضائی خلاف ورزیوں، زمینی حملوں اور قابضانہ کارروائیوں میں جڑ پکڑے ہوئے ہے، قطع نظر اس کے کہ اسرائیل میں اقتدار کس کے پاس ہے۔

بیروت میں قائم تحریر انسٹی ٹیوٹ فار مڈل ایسٹ پالیسی کے نان ریذیڈنٹ فیلو کریم صفی الدین نے الجزیرہ کو بتایا کہ اس بات کا سب سے بڑا ثبوت انتخابات کے دوران کی جانے والی سیاسی تقاریر اور بیانات ہیں۔ انہوں نے اس بات کی نشاندہی کی کہ کوئی بھی امیدوار فوج کے انخلاء کا وعدہ نہیں کر رہا اور نہ ہی جنوبی لبنان کی صورتحال کو بحران یا غلطی کے طور پر تسلیم کر رہا ہے، اور مزید کہا کہ اسرائیلی اسٹیبلشمنٹ مجموعی طور پر لبنان کو ایک انعام کی طرح دیکھتی ہے۔

پس منظر

الجزیرہ کے مطابق، اسرائیل اور لبنانی شیعہ گروہ حزب اللہ کے درمیان اکتوبر 2023 سے مختلف سطحوں پر تصادم جاری ہے، جو جنوبی اسرائیل میں حماس کی قیادت میں ہونے والے حملے اور اس کے بعد غزہ کی پٹی میں شروع ہونے والی جنگ کا نتیجہ تھا۔ اس تنازع کے دوران ستمبر 2024 اور مارچ 2025 میں اسرائیل کی طرف سے بڑی شدت کے حملے دیکھے گئے، جن میں سے آخری سلسلہ امریکہ اور اسرائیل کی ایران کے خلاف جنگ کے آغاز کے بعد سامنے آیا۔

جون 2026 میں، اسرائیل اور لبنانی حکومت نے امریکہ کی ثالثی میں ایک فریم ورک معاہدے پر دستخط کیے جس کا مقصد اسرائیلی افواج کا مرحلہ وار انخلاء طے کرنا تھا، اگرچہ حزب اللہ نے براہ راست مذاکرات کو مسترد کر دیا تھا۔ اس معاہدے کے باوجود، الجزیرہ نے نوٹ کیا کہ اسرائیل اب بھی جنوبی لبنان کے بڑے حصوں پر قابض ہے، جہاں درجنوں دیہات میں گھروں اور بنیادی ڈھانچے کی منظم مسماری کے باعث 10 لاکھ سے زیادہ افراد بے گھر ہو چکے ہیں۔

لبنان میں اسرائیل کے ساتھ نمٹنے کے طریقوں کے حوالے سے عوامی رائے منقسم ہے، جیسا کہ جون 2026 میں لبنانی امریکن یونیورسٹی کے پروفیسر جاد ملکی اور ان کی ٹیم کے ایک سروے میں اجاگر کیا گیا، جس کا حوالہ الجزیرہ نے دیا۔ اس پول سے معلوم ہوا کہ سروے میں شامل 54 فیصد لبنانیوں نے اسرائیل کے ساتھ سفارتکاری کی حمایت کی جبکہ 35 فیصد نے مسلح مزاحمت کو ترجیح دی۔

اس کی اہمیت کیوں ہے

بین الاقوامی مبصرین اور خطے کے امن میں دلچسپی رکھنے والے عام قارئین کے لیے، لبنان میں جاری کشیدگی اور نقل مکانی مشرق وسطیٰ کی سفارتکاری کی گہری پیچیدگیوں اور محض انتخابی تبدیلیوں کے ذریعے دیرپا امن کے حصول کے چیلنجز کو واضح کرتی ہے۔ الجزیرہ کی رپورٹس اس بات کو اجاگر کرتی ہیں کہ مقامی لوگ قابض ممالک میں سیاسی تبدیلیوں کو متوقع اصلاحات کے بجائے تاریخی پس منظر کی عینک سے کیوں دیکھتے ہیں۔