بیروت کے سرکاری دفاتر میں اندھیرہ گہرا ہونے لگا ہے کیونکہ لبنان نے بقایا جات کی ادائیگی نہ کرنے پر تقریبا 100 سرکاری اداروں کو بجلی کی فراہمی بند کرنا شروع کر دی ہے۔ الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق اس سخت اقدام سے ملک کے پاور گرڈ پر پڑنے والے شدید دباؤ کا اندازہ ہوتا ہے، جہاں 2019 کے معاشی بحران کے بعد سے سرکاری سطح پر ملنے والی بجلی روزانہ 21 گھنٹوں سے گھٹ کر محض چند گھنٹوں یا مکمل بلیک آؤٹ کی صورت اختیار کر چکی ہے۔

الجزیرہ کے مطابق یہ فیصلہ وزیرِ توانائی جو سادی کے کابینہ کے اجلاسوں کے بائیکٹ کے تنازع میں ایک تیز تر اضافہ ظاہر کرتا ہے۔ انہوں نے بجلی کی فراہمی بڑھانے، ایندھن کے بوجھ کو کم کرنے اور سرکاری بجلی کمپنی کے واجبات کی ادائیگی کے مطالبات پورے نہ کرنے پر حکومت کے خلاف یہ قدم اٹھایا۔ عالمی بینک کی پیشگوئی کے مطابق رواں سال لبنان میں سالانہ مہنگائی کی شرح 17.5 فیصد تک پہنچنے کا امکان ہے، جبکہ امریکہ اور اسرائیل کی ایران کے خلاف جنگ سے جڑے ایندھن کے اخراجات نے نجی جنریٹرز کے لیے بجلی کے خرچ میں کئی گنا اضافہ کر دیا ہے۔

پس منظر

الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق لبنان کو برسوں سے بجلی کی کٹوتی کا سامنا ہے، لیکن 2019 کے معاشی اور بینکاری بحران کے بعد صورتحال انتہائی خراب ہو گئی تھی۔ ایک قابلِ بھروسہ سرکاری گرڈ کی جگہ ایک متبادل معیشت نے لے لی ہے جہاں شہری سیاسی جماعتوں یا اقتدار کے قریب افراد کے چلائے ہوئے نجی جنریٹرز پر انحصار کرنے پر مجبور ہیں۔ اگرچہ 2025 کے اوائل میں ایک اصلاح پسند حکومت برسرِ اقتدار آئی تھی، لیکن سرکاری بجلی کی فراہمی اب بھی کم ہے جبکہ توانائی کے اخراجات اور مہنگائی آسمان چھو رہی ہے۔ الجزیرہ کی جانب سے نقل کیے گئے توانائی کے ماہرین کا کہنا ہے کہ پورے سپلائی چین میں اربوں ڈالر کی گہرے درجے کی بدعنوانی، پرانے سرکاری پاور پلانٹس اور مہنگے ڈیزل پر انحصار کی وجہ سے اس کا فوری حل ناممکن ہے۔

اس کی کیا اہمیت ہے

بین الاقوامی حالات پر نظر رکھنے والے عام قارئین کے لیے یہ صورتحال ان معیشتوں کو درپیش شدید چیلنجز کو اجاگر کرتی ہے جو ساختیاتی بدعنوانی، توانائی کی کمی اور بیرونی تنازعات کا شکار ہو کر مہنگائی اور ایندھن کی قیمتوں میں اضافے کا سامنا کر رہی ہیں۔ سرکاری انفراسٹرکچر کی ناکامی پر مہنگے متبادل توانائی کے ذرائع پر انحصار معاشی زوال کے دوران قومی یوٹیلیٹی گرڈز کو چلانے کی پیچیدگیوں کی ایک واضح مثال پیش کرتا ہے۔

آگے کیا ہوگا

الجزیرہ کے مطابق بجلی کا یہ جاری تنازع کابینہ میں ممکنہ ردوبدل اور وزیرِ توانائی جو سادی کے ممکنہ استعفے کے حوالے سے چیمگوئیوں میں اضافے کا سبب بن رہا ہے۔