تاریک رات میں آنے والے ایک ہولناک زلزلے نے تبت کے پہاڑی علاقے کو ہلا کر رکھ دیا، جس کے نتیجے میں کم از کم 16 افراد جان کی بازی ہار گئے۔ بی بی سی کی رپورٹ کے مطابق چینی سرکاری میڈیا نے بتایا ہے کہ اس قدرتی آفت میں 32 افراد زخمی ہوئے ہیں، 339 مکانات ملبے کا ڈھیر بن گئے ہیں اور متاثرہ علاقے میں بجلی کا نظام درہم برہم ہو چکا ہے۔

بی بی سی کے توسط سے ژنہوا اور مقامی ایمرجنسی مینجمنٹ بیورو کے مطابق زلزلے کا مرکز ناگچو کے علاقے میں باقین کاؤنٹی تھا، جو جمعرات کی رات لسا سے 400 کلومیٹر شمال مشرق میں واقع ہے۔ بی بی سی نیوز نے بتایا کہ زلزلے کے شدید جھٹکے قامدو اور نینگچی کے شہروں میں بھی محسوس کیے گئے، جبکہ پہاڑی تودے گرنے سے سڑکیں بند ہو گئیں جس کی وجہ سے امدادی ٹیموں کو بلند و بالا مقامات پر پہنچنے میں شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ویڈیوز میں دیہاتیوں کو لرزتی عمارتوں کے دوران سڑکوں کی طرف بھاگتے ہوئے دیکھا گیا، تاہم بی بی سی نے واضح کیا کہ ان ویڈیوز کی آزادانہ تصدیق نہیں ہو سکی۔

پس منظر

بی بی سی نیوز کے مطابق متاثرہ کاؤنٹی ایسے علاقے میں واقع ہے جسے چین 1950ء کی دہائی میں الحاق کے بعد تبت خودمختار علاقہ کہتا ہے۔ یہ خطہ چین کے انتہائی سخت کنٹرول والے علاقوں میں شمار ہوتا ہے جہاں غیر ملکی میڈیا پر پابندی ہے اور معلومات کی سخت سنسرشپ کی جاتی ہے، جس کی وجہ سے آفات کے دوران چینی سرکاری میڈیا ہی خبروں کا بنیادی ذریعہ ہوتا ہے۔

بی بی سی نے یہ بھی رپورٹ کیا کہ تبت کے قریب گانسو صوبے میں 2023ء میں 6.2 شدت کا زلزلہ آیا تھا جس میں 120 سے زائد افراد ہلاک ہوئے تھے۔ مزید برآں، بی بی سی کے مطابق دو ماہ سے بھی کم عرصہ قبل تبت اور نیپال میں گلیشیر کے ٹوٹنے سے شدید سیلاب اور تودے گرے تھے، جن کے نتیجے میں کم از کم 1400 اموات ہوئیں اور سیکڑوں افراد لاپتا ہو گئے تھے۔

اہمیت کیوں ہے؟

عالمی حالات پر نظر رکھنے والے قارئین کے لیے پہاڑی علاقوں میں اس نوعیت کی بڑی آفات یہ واضح کرتی ہیں کہ بلند و بالا ماحول میں آباد کمیونٹیز کو کتنے شدید خطرات کا سامنا ہے۔ مکانات کے منہدم ہونے اور تودے گرنے سے سڑکیں بند ہونے جیسی انفراسٹرکچر کی تباہی ان آفاقی چیلنجز کو اجاگر کرتی ہے جو کٹے ہوئے اور دور افتادہ متاثرہ علاقوں میں امدادی کارکنوں کو پیش آتے ہیں۔