دنیا بھر کے فٹبال شائقین کی توجہ کا مرکز بننے والے ڈڈیگو Maradona کے انتقال سے جڑے قانونی معاملے کا آخری مرحلہ قریب آ گیا ہے، اور عدالت نے اعلان کیا ہے کہ اس مقدمے کا فیصلہ 22 دسمبر کو سنایا جائے گا۔ Al Jazeera کی رپورٹ کے مطابق، یہ ٹرائل چھ ماہ تک جاری رہنے والی سماعتوں اور ملزمان اور سوگوار لواحقین کے آخری بیانات کے بعد اختتام کو پہنچا۔
ٹرائل اور کارروائی
Al Jazeera کے مطابق، اس مقدمے میں سات طبی ماہرین کو فٹبالر کی موت کے سلسلے میں غفلت برتنے کے الزام کا سامنا ہے، جو 60 برس کی عمر میں دل کے دورے اور پھیپھڑوں میں پانی پڑنے کے باعث انتقال کر گئے تھے۔ AFP کی رپورٹ کے مطابق، اپریل میں شروع ہونے والی اس عدالتی کارروائی میں 70 سے زائد گواہوں نے اپنی گواہی ریکارڈ کروائی۔
عدالت میں آخری بیانات کے دوران ڈلما Maradona نے اپنے جذبات کا اظہار کرتے ہوئے کہا، جیسا کہ Al Jazeera نے رپورٹ کیا: “I hope my father receives the justice he deserves … like anyone else.” دوسری طرف، مرکزی ملزم اور اہم ڈاکٹر لیوپولڈو لوکے نے اپنی بے گناہی کا دعویٰ کرتے ہوئے عدالت کو بتایا، جیسا کہ Al Jazeera کے حوالے سے نقل کیا گیا: “I cared deeply for him, I loved him, he was my idol and my friend.”
Al Jazeera نے بتایا کہ استغاثہ نے سات میں سے چھ ملزمان کے لیے 4 سے 12 سال تک قید کی سزاؤں کی درخواست کی ہے، اور ڈاکٹر لوکے کے لیے زیادہ سے زیادہ 12 سال کی قید کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ آخری دلائل کے دوران، لوکے کے دفاعی وکلاء نے استغاثہ کے اس دعوے کو مسترد کر دیا کہ موت کا پہلے سے ادراک کیا جا سکتا تھا، اور اپنے موکل کو ایک قربانی کا بکرا قرار دیا، جیسا کہ Al Jazeera نے بتایا۔ قانونی بحث اس بات پر مرکوز رہی کہ Maradona کو اسپتال کے بجائے کسی نجی گھر میں صحت یاب ہونے کی اجازت دینا غفلت کے زمرے میں آتا ہے یا نہیں، جبکہ استغاثہ نے اسپتال کے بستر یا ڈیفبریلیٹر جیسے طبی آلات کی عدم موجودگی کو اجاگر کیا، جیسا کہ Al Jazeera نے رپورٹ کیا۔
پس منظر
Al Jazeera کے مطابق، ڈڈیگو Maradona 25 نومبر 2020 کو بیونس آئرس کے شمال میں واقع علاقے ٹائگر میں اپنے بستر پر مردہ پائے گئے تھے، جہاں وہ معمولی نوعیت کی جراحی کے بعد صحت یاب ہو رہے تھے۔ Al Jazeera نے نوٹ کیا کہ اس قدآور فٹبال اسٹار کی زندگی میں منشیات کے استعمال کی تاریخ رہی ہے، اور ان کے انتقال نے کووڈ-19 کی وبا کے دوران پورے ارجنٹائن کو سوگوار کر دیا تھا۔ کارروائی کے دوران طبی ماہرین نے گواہی دی کہ نگہداشت کرنے والے افراد پانی پڑنے، دل کی دھڑکن کے تیز ہونے اور سانس لینے میں دشواری جیسے اہم خطرے کے اشاروں پر بروقت ردعمل ظاہر کرنے میں ناکام رہے، جیسا کہ Al Jazeera نے بتایا۔
اس کی اہمیت کیوں ہے
کھیلوں کے شائقین اور بین الاقوامی قانونی کارروائیوں پر نظر رکھنے والوں کے لیے، یہ ہائی پروفائل طبی غفلت کے مقدمات عام افراد اور معروف شخصیات کے لیے درکار طبی نگہداشت کے معیار سے جڑے پیچیدہ سوالات کو سامنے لاتے ہیں۔ آنے والا عدالتی فیصلہ بڑے طبی آپریشنز کے بعد صحت یاب ہونے والے افراد کی زندگی کے آخری ایام کی دیکھ بھال کے انتظام سے متعلق جوابدہی کا تعین کرے گا۔
آگے کیا ہوگا
Al Jazeera کے مطابق، عدالت اس مقدمے میں اپنا فیصلہ 22 دسمبر کو سنائے گی۔

