جب باسکٹ بال کی دنیا کے ستارے وکٹر ومبین یاما نے ایک پریس کانفرنس کے دوران یہ کہا کہ وہ اپنے وطن کے پریشان حال نوجوانوں کی آواز سن رہے ہیں، تو انہوں نے عالمی شہرت اور فرانسیسی کلاس رومز کی کچی حقیقت کے درمیان موجود خلیج کو کم کر دیا۔ روئٹرز اور الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق سان انٹونیو اسپرز سے تعلق رکھنے والے اس کھلاڑی نے جمعرات کے روز ان نوجوانوں کی حمایت کا اظہار کیا جو ملک کے اسکولوں کے ابتر حالات کے خلاف سراپا احتجاج ہیں۔
روئٹرز کے مطابق وزارت داخلہ نے بتایا کہ جمعرات کے ان مظاہروں میں 71500 افراد نے حصہ لیا جبکہ پیرس میں پلیس ڈی لا باسٹل کے مرکزی جلوس میں 24500 افراد شریک ہوئے۔ ومبین یاما نے پریس کانفرنس میں رپورٹرز کو بتایا کہ یہ مظاہرے نظامی عدم مساوات اور گہرے مسائل کی عکاسی کرتے ہیں، اور انہوں نے اس بات پر خوشی کا اظہار کیا کہ نوجوان اپنی آواز بلند کر رہے ہیں۔
پس منظر
روئٹرز اور الجزیرہ کے مطابق ان مظاہروں کا آغاز گزشتہ ماہ پیرس کے غریب شمالی علاقوں کے ہائی اسکولوں سے ہوا تھا۔ اساتذہ کی مسلسل غیر حاضری اور بوسیدہ عمارتوں پر برپا ہونے والا غصہ دیکھتے ہی دیکھتے ایک ایسے ملک گیر تحریک میں بدل گیا جو عدم مساوات، پبلک سیکٹر میں کم فنڈنگ اور گرتے ہوئے تعلیمی معیار کے خلاف آواز اٹھا رہی ہے۔ ومبین یاما نے بتایا کہ انہوں نے نانٹیرے کے ہائی اسکول میں تعلیم حاصل کی تھی جسے انہوں نے اپنے دور میں طلبہ کی طرف سے اسکولوں کی بندش کا گڑھ قرار دیا، اور کہا کہ وہ ان نظامی مسائل سے بچ نکلنے کو کسی منصوبے کے بجائے محض قسمت کا کھیل سمجھتے ہیں۔
اس کی اہمیت کیا ہے
عالمی امور کا جائزہ لینے والے قارئین کے لیے، عوامی فنڈنگ، تعلیمی بنیادی ڈھانچے اور معاشی تفاوت کے مسائل پر ہونے والے یہ عوامی مظاہرے ان مشترکہ چیلنجز کو اجاگر کرتے ہیں جن کا سامنا بین الاقوامی سطح پر تعلیمی نظاموں کو ہے۔ اہم شخصیات کی شمولیت سے ان نوجوانوں کی تحریک کو نمایاں پذیرائی ملتی ہے جو ادارہ جاتی شکایات کے خلاف سرگرم ہیں۔

