چینی اسٹاربکس میں اب بغیر خریداری کیے کیفے کی نشستوں پر بیٹھنا ممکن نہیں رہا۔ بی بی سی کی رپورٹ کے مطابق ملک بھر میں موجود اسٹاربکس کے تمام 8000 اسٹورز پر ایک نئی لازمی خریداری کی پالیسی نافذ کر دی گئی ہے، جس کا مقصد گاہکوں کے لیے نشستوں کا حصول یقینی بنانا ہے۔

بی بی سی کے مطابق یہ قدم سوشل میڈیا پر "بیٹھنے کے لیے خریداری لازمی" کے بورڈز کی تصاویر وائرل ہونے اور رش کے اوقات میں جگہ کے حصول پر ہونے والی آن لائن بحث کے بعد اٹھایا گیا۔ کمپنی کا کہنا ہے کہ اس اقدام کا مقصد اسٹورز میں گاہکوں کے تجربے کو بہتر بنانا ہے۔

پس منظر

بی بی سی کی رپورٹ کے مطابق اسٹاربکس کو چین میں مقامی برانڈز جیسے کہ لکن کافی کی جانب سے سخت مسابقت کا سامنا ہے، جس نے 2023 میں اسٹاربکس کو پیچھے چھوڑ کر چین کا سب سے بڑا کافی چین بننے کا اعزاز حاصل کیا۔ لکن کم قیمت مصنوعات اور موبائل ایپ پر مبنی آرڈرنگ سسٹم کی فراہمی پر زور دیتا ہے، جو صرف خریداری کے بعد جانے والے گاہکوں کو ترجیح دیتا ہے اور اسٹاربکس کے روایتی کیفے کلچر سے مختلف ہے۔ بی بی سی نے نوٹ کیا کہ دنیا بھر میں اسٹاربکس کے اسٹورز کو بغیر ادائیگی کے نشستیں گھیرنے اور نامناسب رویوں کا سامنا رہا ہے۔ بی بی سی کی طرف سے بیان کردہ واقعات میں صوبہ سیچوان کے ایک اسٹور میں باہر کی نشستوں کو زنجیریں لگانا، جنوبی کوریا کے اسٹورز میں گاہکوں کا ڈیسک ٹاپ کمپیوٹرز اور پرنٹرز جیسی بھاری اشیاء لانا، اور شمالی امریکہ میں ادائیگی کرنے والے گاہکوں کو ترجیح دینے کے لیے کھلے دروازے کی پالیسی کو ختم کرنا شامل ہے۔ اس کے علاوہ بی بی سی نے رپورٹ کیا کہ اسٹاربکس بویو کیپیٹل کے ساتھ چار ارب ڈالر کے سودے کے تحت اپنے چینی کاروبار کا 60 فیصد حصہ فروخت کرنے کا ارادہ رکھتا ہے، اور عملے میں اضافہ اور ڈیجیٹل نظام کو بہتر بنانا چاہتا ہے۔

اس کی اہمیت کیوں ہے

بین الاقوامی مشاہدین اور مقامی مارکیٹوں کے لیے، عالمی کافی چینز میں تبدیلیاں انتہائی مسابقتی شعبوں میں بدلتے ہوئے مسابقتی دباؤ اور ریٹیل کی حکمت عملیوں کی عکاسی کرتی ہیں۔ اگرچہ یہ پالیسی براہ راست چین میں گاہکوں کو متاثر کرتی ہے، لیکن یہ اس بات کو اجاگر کرتی ہے کہ کس طرح بڑے بین الاقوامی برانڈز مقامی مسابقت کے درمیان اسٹور کی جگہ اور گاہکوں کے بہاؤ کا انتظام کرتے ہیں۔