جنوبی کوریا کی فوج کے مطابق، شمالی کوریا نے بحیرہ جاپان کی طرف کئی میزائل فائر کیے ہیں۔ الجزیرہ اور رائٹرز کی رپورٹس کے مطابق یہ کارروائی اس تردید کے چند گھنٹوں بعد سامنے آئی جس میں پیانگ یانگ نے تاریخ کی سب سے بڑی ڈیجیٹل کرنسی چوری سے تعلق کے الزامات کو سختی سے مسترد کیا تھا۔ جنوبی کوریا کے جوائنٹ چیفس آف سٹاف نے ان میزائلوں کو ملک کے مشرقی ساحلی علاقے سوندوک سے فائر ہوتے ہوئے دیکھا، جو کہ ایک ہی مہینے کے دوران شمالی کوریا کا چوتھا ایسا ہتھیاروں کا تجربہ ہے۔

اہم پیش رفت

الجزیرہ اور رائٹرز کی رپورٹس کے مطابق، تازہ ترین میزائل تجربات سے پہلے شمالی کوریا نے بائینس سے 6 ارب ڈالر سے زائد کے کرپٹو اثاثوں کی چوری سے متعلق عوامی سطح پر تردید جاری کی تھی۔ اس کرپٹو ایکسچینج نے اسے ریکارڈ پر سب سے بڑی ہیکنگ قرار دیا تھا۔ اس کے بعد امریکی ادارے ایف بی آئی نے اس سائبر حملے کا الزام شمالی کوریا کے ٹریڈر ٹنیونیٹر نامی ہیکنگ گروپ پر عائد کیا، جس پر پیانگ یانگ کی طرف سے شدید ردعمل سامنے آیا۔

الجزیرہ نے رپورٹ کیا کہ شمالی کوریا کے رہنما کم جونگ ان کی بہن کم یو جونگ نے ایف بی آئی کے اس اعلان کو ایک فرسودہ اشتعال انگیزی اور واشنگٹن کی دشمنانہ پالیسی کا تسلسل قرار دیا۔ انہوں نے موجودہ حالات میں امریکہ کے ساتھ کسی بھی قسم کے مذاکرات کا واضح طور پر امکان مسترد کرتے ہوئے کہا کہ پیانگ یانگ کو غیر معتبر فریقین کے ساتھ بات چیت کرنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ دوسری طرف، رائٹرز نے بتایا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹنپ نے اس سال کے آخر میں کم جونگ ان سے ملاقات کی خواہش کا اظہار کیا ہے، جبکہ اس سے قبل وہ اپنی سفارتی کوششوں کے دوران ملک کے جوہری ہتھیاروں کا ذکر بھی کر چکے ہیں۔

پس منظر

ماخذ کے مطابق، واشنگٹن اور پیانگ یانگ کے درمیان پچھلے اعلیٰ سطح کے مذاکرات شمالی کوریا کے جوہری پروگرام پر اختلافات کی وجہ سے 2019 میں ناکام ہو گئے تھے۔ اکتوبر میں، امریکہ، جنوبی کوریا اور جاپان نے کوریائی جزیرہ نما کو مکمل طور پر جوہری ہتھیاروں سے پاک کرنے کے مشترکہ مطالبات کا اعادہ کیا۔ الجزیرہ کی طرف سے نقل کیے گئے تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ شمالی کوریا نے مستقبل کے کسی بھی ممکنہ سفارتی مذاکرات کے لیے اپنی سٹریٹجک پوزیشن کو مضبوط کرنے کی غرض سے پورے سال اپنے ہتھیاروں کے تجربات میں تیزی لائی ہے۔

اس کی اہمیت کیوں ہے

پاکستان اور پوری بین الاقوامی برادری کے قارئین کے لیے، جوہری ہتھیاروں کے حامل ممالک اور بڑی عالمی طاقتوں کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی اس بات کی یاد دہانی ہے کہ عالمی سلامتی کتنی نازک ہے۔ بین الاقوامی مالیاتی منڈیوں میں خلل، ڈیجیٹل انفراسٹرکچر کی کمزوریاں، اور مشرقی ایشیا میں جاری جغرافیائی سیاسی تنازعات دنیا بھر میں عالمی معاشی استحکام اور سفارتی صف بندی کو متاثر کرتے رہے ہیں۔