پنجاب میں سرمایہ کاری کے نئے دور کا آغاز
پنجاب حکومت نے صوبے میں غیر ملکی سرمایہ کاری کے فروغ اور عالمی شراکت داری کو مضبوط بنانے کے لیے اہم انتظامی تبدیلی کرتے ہوئے وزیراعلیٰ کے مشیر علی ڈار کے اختیارات میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔ جیونیوز کی رپورٹ کے مطابق، وزیراعلیٰ مریم نواز شریف نے علی ڈار کو 'بین الاقوامی تعاون' (International Cooperation) کا اضافی قلمدان سونپ دیا ہے، جس کا مقصد پنجاب میں بیرونی سرمایہ کاری کے عمل کو تیز کرنا ہے۔
سرکاری اعلامیے کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ علی ڈار کا نیا عہدہ اب 'مشیر برائے مصنوعی ذہانت (AI)، بین الاقوامی تعاون اور خصوصی اقدامات' ہوگا۔ اس حوالے سے باقاعدہ نوٹیفکیشن بھی جاری کر دیا گیا ہے۔
نئے ادارے کا قیام اور علی ڈار کی سربراہی
جیونیوز کے مطابق، وزیراعلیٰ مریم نواز کی ہدایات پر 'آفس آف انٹرنیشنل کوآرڈینیشن اینڈ کوآپریشن' (OICAC) قائم کیا گیا ہے، جس کی سربراہی کی ذمہ داری علی ڈار کو دی گئی ہے۔ اس نئے ڈھانچے کے تحت پنجاب بورڈ آف انویسٹمنٹ اینڈ ٹریڈ (PBIT) کو بھی اس نئے دفتر (OICAC) کے ساتھ منسلک کر دیا گیا ہے۔
اس اشتراک کا مقصد عالمی اداروں کے ساتھ تجارتی مواقع اور سرمایہ کاری کے منصوبوں میں بہتر ہم آہنگی پیدا کرنا ہے۔ جیونیوز کو دیے گئے ایک انٹرویو میں علی ڈار نے کہا کہ یہ نیا دفتر غیر ملکی سرمایہ کاروں کے لیے آسانیاں پیدا کرے گا، کاروباری سرگرمیوں کو فروغ دے گا اور مختلف سرکاری محکموں کے درمیان رابطوں کو بہتر بنائے گا۔
پس منظر اور پیشہ ورانہ سفر
یاد رہے کہ جیونیوز کی رپورٹ کے مطابق، علی ڈار کو پہلی بار 9 فروری 2026 کو وزیراعلیٰ کا مشیر مقرر کیا گیا تھا، جہاں انہیں صوبائی وزیر کا درجہ اور اختیارات دیے گئے تاکہ وہ حکومتی امور میں جدت، ٹیکنالوجی اور مصنوعی ذہانت کے استعمال کو فروغ دے سکیں۔
علی ڈار پاکستان کے نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار کے بڑے صاحبزادے ہیں اور سابق وزیراعظم نواز شریف کی صاحبزادی و وزیراعلیٰ مریم نواز کی چھوٹی بہن، اسماء نواز شریف کے شوہر ہیں۔ انہوں نے لاہور کے ایچی سن کالج سے ابتدائی تعلیم حاصل کرنے کے بعد سن 2000 میں برطانیہ کا رخ کیا، جہاں انہوں نے یونیورسٹی کالج لندن اور یونیورسٹی آف مانچسٹر انسٹی ٹیوٹ آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی سے سافٹ ویئر انجینئرنگ کی ڈگری حاصل کی۔ پنجاب حکومت میں شمولیت سے قبل وہ متحدہ عرب امارات میں قائم 'ایچ ڈی ایس گروپ آف کمپنیز' کے بانی اور 2024 تک اس کے چیف ایگزیکٹو کے طور پر خدمات انجام دیتے رہے ہیں۔
معاشی استحکام کی جانب قدم
جیونیوز کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ OICAC کا قیام اور پنجاب بورڈ آف انویسٹمنٹ کو ایک چھتری تلے لانے کا مقصد بین الاقوامی سرمایہ کاروں کے لیے ایک مربوط نظام فراہم کرنا ہے۔ اس اقدام سے توقع کی جا رہی ہے کہ غیر ملکی شراکت داریوں کو عملی معاشی منصوبوں میں تبدیل کرنا آسان ہو جائے گا، جس سے پورے پنجاب میں ترقی کے نئے مواقع پیدا ہوں گے۔

مریم نواز
اسحاق ڈار
نواز شریف